فن اور فنکار

معین اختر مزاح کی یونیورسٹی ، دلیپ کمار مداح، امیتابھ بچن پرستاروں میں شامل

مزاح کے بے تاج بادشاہ اور جنوبی ایشیا کے عظیم فنکار معین اختر کو فنکاروں سے بچھڑے گیارہ برس بیت گئے

لیجنڈ معین اختر نے کامیڈی، اداکاری، کمپیئرنگ سمیت فنون لطیفہ کی ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا۔ ان کے مداح میں اداکاری کے شہنشاہ دلیپ کمار سرفہرست ہیں. اداکار امیتابھ بچن
سمیت دیگر بھی ان کے فن کے پرستاروں میں شامل ہیں.

معین اختر نے جو بھی کردار ادا کیا اس میں ڈھل گئے. یوں لگتا تھا کہ یہ کردار بنا ہی ان کےلئے تھا اور اب یہ مزید اپنے فن کامظاہرہ نہیں کر پائیں گے یعنی انہوں نے اپنی اداکاری کی انتہا پالی
لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا معین اختر کو نیا کردار ملتا تو معین اختر اس کو بھی امر کر دیتے . یوں یہ سلسلہ ان کی آخری سانس تک چلا. وہ اپنے کام میں ایک یونیورسٹی کا درجہ ہی رکھتے تھے .

پیروڈی کرنے میں مہارت معین اختر پر ختم تھی .آواز حرکات و سکنات کی ادائیگی اس طرح سے کرتے کہ سب ہی واہ واہ کر اٹھتے تھے . ان کی نقل پر ہمیشہ اصل کا گمان ہوتا تھا
معین اختر 24 دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپئیر کے ناول سے ماخوذ اسٹیج ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں محض 13 برس کی عمر میں دی جب کہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966ء میں کی۔
معین اختر کو فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھاکیونکہ فلم ہو یا ٹی وی یا پھراسٹیج ڈرامہ انھوں نے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔معین اختر کے طنز ومزاح سے بھرپور جملوں نے تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا۔

ساتھی اداکاروں کے مطابق معین اخترمحض اداکار ہی نہیں بلکہ ایک دور کا نام تھا جنھوں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا۔

معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نو سر اورعید ٹرین شامل ہیں، ڈرامہ روزی میں ان کاکردارشاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔

معین اختر کے کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں، ایک نجی چینل کے لیے ان کے طنز ومزاح سے بھرپور ٹی وی شوز کی، چارسو اقساط کا نشر ہونا بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

معین اختر 22 اپریل سن 2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ان کی کمی موجود ہے ان کا کیا ہوا کام ایک یونیورسٹی کی طرح موجود ہے جس سے مستفید ہونے کا سلسلہ جاری ہے .

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button