پاکستانتازہ ترینسپیشل رپورٹمضامین

"پراپرٹی ڈیلرز نظر انداز کیا گیا طبقہ”

تحریر:چوہدری محمّد عثمان 

"پراپرٹی ڈیلرز نظر انداز کیا گیا طبقہ”

پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بظاہر ایک بڑا اور منافع بخش شعبہ ہے، مگر اس کے پردے کے پیچھے ایک ایسا طبقہ کام کرتا ہے جو روزانہ درجنوں مشکلات کا سامنا کرتا ہےاور وہ ہیں پراپرٹی ڈیلرز۔ یہ لوگ خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان رابطے کا پل بن کر ملک کے معاشی پہیے کو حرکت میں رکھتے ہیں، مگر ان کے مسائل پر نہ حکومت توجہ دیتی ہے اور نہ ہی معاشرہ انہیں درپیش چیلنجز کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔

سب سے پہلا اور بنیادی مسئلہ مارکیٹ کا غیر یقینی ماحول ہے۔ کبھی زمینوں کے ریٹس آسمان سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی چند ہفتوں میں مارکیٹ مکمل بیٹھ جاتی ہے۔ سیاسی بے یقینی، مہنگائی، ٹیکس اور معاشی بحران نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کا براہِ راست اثر پراپرٹی ڈیلرز کی آمدنی پر پڑتا ہے۔ مہینوں کوئی سیل نہ ہونا آج کا عام مسئلہ بن چکا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ ریگولیشن کا فقدان ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں مگر ملک میں اس شعبے کے لیے کوئی واضح، مستحکم اور منظم قانونی ڈھانچہ موجود نہیں۔ ہر شہر، ہر ڈیویلپر اور ہر ادارہ اپنے الگ اصول بنائے بیٹھا ہے۔ ڈیلرز کو نہ تو سرکاری سطح پر کوئی نمائندگی حاصل ہے اور نہ ہی انہیں کاروبار کرنے کے لیے باقاعدہ تربیت یا سرٹیفکیشن ملتی ہے۔

تیسرا بڑا چیلنج جعلی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ مارکیٹ میں ایسے بے شمار منصوبے موجود ہیں جو بغیر منظوری کے پلاٹ فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کوئی ڈیلر لاعلمی میں ایسا منصوبہ بیچ دے اور بعد میں مسئلہ نکل آئے تو سارا بوجھ اس کی ساکھ پر پڑتا ہے، حالانکہ اصل ذمہ داری منظوری دینے والے اداروں کی ہے جو ایسے کاموں کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیکس قوانین کی بار بار تبدیلی بھی ڈیلرز اور سرمایہ کار دونوں کو پریشان کرتی ہے۔ فنڈ ٹریل، ایف بی آر کے نوٹسز، بے جا جرمانے اور غیر واضح قانون سرمایہ کاری کو مزید مشکل بناتے ہیں۔ کلائنٹ کو سمجھانا بھی ایک چیلنج ہے کیونکہ قانون روز بدلتا ہے اور ہر ڈیلر اس کا ماہر نہیں ہوتا۔

آج کے دور میں ایک اور اہم مسئلہ ڈیجیٹل تبدیلی ہے۔ دنیا آن لائن پراپرٹی پورٹلز، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل لیڈز کی طرف بڑھ چکی ہے، مگر پاکستان کے ایک بڑے حصے میں ابھی تک روایتی طریقہ کار پر انحصار ہے۔ جدید مارکیٹنگ کے بغیر ڈیلرز مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں جبکہ بڑے ڈیویلپرز اور کمپنیز اسی خلا کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ پر قبضہ کر رہی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پراپرٹی ڈیلرز ملک میں لاکھوں خاندانوں کا معاش سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں نہ معاشرتی عزت ملتی ہے، نہ حکومتی تعاون، اور نہ ہی کوئی ایسا پلیٹ فارم موجود ہے جو ان کے حقوق کی آواز اٹھائے۔

وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دے، ڈیلرز کی رجسٹریشن اور تربیت کا نظام بنائے، ٹیکس قوانین کو آسان کرے اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ جب پراپرٹی مارکیٹ مستحکم ہو گی تو نہ صرف ڈیلرز کا روزگار بہتر ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی جان ملے گی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button