فن اور فنکار
شاعری
نیلے افق پر یہ جو خون رنگ سی شام اتری ہے۔ یہ کسی آنچل کی لالی ہے, یا کوئی جیون سے ہارا ہے۔
کیسی افراتفری ہے پھیلی، لوٹ مار کا سماں کیوں ہے۔کسی نے اقتدار ہے کھویا، یا ٹوٹا کوئی تارا ہے۔
کہاں فریاد کروں، سناوں کسے جان جانے کا دکھ۔
قتل کی سازش میں شامل ہر اپنا ہر پیارا ہے۔
میں تیسری دنیا کا باسی، محبت سے مکمل عاری ہوں۔ ھمیشہ خود غرضی کو دیکھا، یہاں نفرت ایک نظارہ ہے۔
مانا آنکھیں حسین ہے تیری، پائل بھی من کو بھاتی ہے۔
مگر ہمدم حالات دوراں نے، میرے ہر جذبے کو مارا ہے۔(فرحان باری )



