ادب

مگر ہمدم حالات دوراں نے، میرے ہر جذبے کو مارا ہے۔(فرحان باری )

نیلے افق پر یہ جو خون رنگ سی شام اتری ہے۔
یہ کسی آنچل کی لالی ہے, یا کوئی جیون سے ہارا ہے۔

کیسی افراتفری ہے پھیلی، لوٹ مار کا سماں کیوں ہے۔
کسی نے اقتدار ہے کھویا، یا ٹوٹا کوئی تارا ہے۔

کہاں فریاد کروں، سناوں کسے جان جانے کا دکھ۔
قتل کی سازش میں شامل ہر اپنا ہر پیارا ہے۔

میں تیسری دنیا کا باسی، محبت سے مکمل عاری ہوں۔
ہمیشہ خود غرضی کو دیکھا، یہاں نفرت ایک نظارہ ہے۔

مانا آنکھیں حسین ہے تیری، پائل بھی من کو بھاتی ہے۔
مگر ہمدم حالات دوراں نے، میرے ہر جذبے کو مارا ہے۔(فرحان باری )

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button