
"اکادمی ادبیات لاہور میں چوریاں”
لاہور میں پاک ٹی ہاوس، اکادمی ادبیات، پاکستان رائٹرز گلڈ ایسے ادبی مقام ہیں جو عرصہ دراز سے ادبی تقاریب کے لیے مختص کیے گئے ہیں جہاں ماضی کے معروف شعرا نے اپنے کلام سے اپنے ناموں سے انہیں روشن رکھا یہی کام دور۔ حاضر کے شعرا بھی سر انجام دے رہے ہیں البتہ یہاں تعینات کیے جانے والے کچھ عہدہ داران ادب میں خوب بے ادب کام کر کے ان اداروں تنظیموں کے حسن کواپنی جانبداری جہالت اور منافقت سے تحس نحس کر رہے ہیں جس پر اگر کوئی توجہ نہ کی گئ تو ایسے لوگ جو معاشرے کے حسن اور نسل نو تباہ کر رہے ہیں ان میں سوائے اضافہ کے اور کچھ نہ ہوگا
آج بات اکادمی ادبیات لاہور پر کرنے جا رہی ہوں جیسا کہ قارئین کو معلوم ہے ہمیشہ خاموش رہ کر بہت سی باتیں محسوس کرتی ہوں پھر قلم کو زبان بنا کر قارئین کہ نذر کرتی ہوں
جمیل صاحب جو اکادمی ادبیات لاہور کےنجانے کس عمدہ پر فائز ہیں کیونکہ اختیارات حد سے تجاوز ملے ہوئے ہیں اور وہ ان میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑتے اپنی ہٹ دھرمی کی
15 اپریل کو 11 بجکر 33 پر پہلی کال دوسری کال 4 بجکر 49 منٹ پر کی اس کے علاوہ وٹس اپ پر کئ کالز کیں مگر جواب ندارد پھر 16 اپریل کو 2 بجکر 10 منٹ پر کال کی سلام دعا کے بعد جب جمیل صاحب کو تقریب رکھنے کو کہا تو کہتے میں ابھی دیکھ کر بتاتا ہوں پھر غائب اور راقمہ انتظار ہی کرتی رہی جب بار بار کال کی تو اگلے روز کال اٹینڈ کر کے فرمایا زرقاجی جو بندہ یہ کام سنبھالتا ہے عدنان اس کا نام ہے وہ چین جا رہا ہے دس بارہ روز لگ جائیں گے پھر ایکدم بولے دس پندرہ دن کے بعد آئے گا تو بتائے گا تب تک آپ انتظار کریں یہ ہماری بات 17 اپریل کو ہوئی
میں نے ایسے ہی زارا خان کو وائس نوٹ کردیا زارا خان سے میری بات ہوئی انہوں نے کہا زرقاجی کتاب آپ نے پرنٹ کی ہے تقریب بھی آپ ہی کریں آپ آرگنائز بھی اچھا کرتی ہیں جوابا” کہا زارا جی آپ فکر نہ کریں تسلی سے تقریب کرونگی اور تمام میڈیا پر کتاب کے حوالے سے رپورٹ اور ویڈیوز بھی لگا دوں گی قلمکار کو سراہا جائے یہی اس کی خواہش ہوتی ہے وہ اسی میں دونوں جہان کی خوشیاں سمیٹ لیتا ہے اور ہم اسی پر کام کر رہے محض اپنے آپ کو نہیں دوسروں کو عزت دیتے ہیں ان کے کام کو سراہتے ہیں
احباب غور فرمایے گا 22 اپریل کو دعوت نامہ موصول ہوا ہمارے شاعر ممتاز راشد لاہوری کی جانب سے کہ اکادمی ادبیات میں ہمارے ادارہ خیال و فن کے زیر اہتمام زارا خان کی کتاب کی رونمائی ہے دعوت نامہ پڑھتے ہی ممتاز لاہوری صاحب کو کال کی اور زارا خان کو بھی اور صاف صاف بتایا کہ اس کتاب کی رونمائی تو ہم نے کرنی تھی اور اکادمی ادبیات میں ہی لیکن جمیل صاحب نے منع کر دیا تھا اب کیسے یہ سب ہوگیا تو ممتاز راشد لاہوری صاحب نے کہا یہ بات آپ جمیل صاحب سے کریں زارا خان نے کہا مجھے تو علم نہیں میں سمجھی کہ آپ کو سب پتا ہے کیونکہ محترم اکرم سحر فارانی ہی سب کام کر رہے ہیں انہوں نے آپ کو بتایا نہیں میں تو بیمار بیٹھی ہوں راقمہ نے جمیل صاحب کو کال کی پھر وہی کالز کا جواب نہیں اگلے روز پھر کال اور جواب میں یہ کہا گیا وہ بندہ نہیں گیا اس لیے ہم نے تقریب رکھ لی اس پر میں خفا ہوئی اور کہا جمیل صاحب اصولی طور پر آپ کو یہ مجھے بتانا چاہیے تھا کہ بندہ نہیں گیا اور میں پندرہ دن کے انتظار میں بیٹھی ہوں کہ پھر تقریب ہوگی جبکہ کئی بار سوچا کاسمو پولیٹن یا اپنے آفس ہی میں تقریب رکھ لوں احباب ہر بات کو غور سے پڑھیے گا کب سے کالز کر رہی تھی کس کس وقت کیا کیا بات ہوئی اور 22 اپریل کو دعوت نامہ موصول ہوا ظاہر ہے اس کو ترتیب دینے میں بھی وقت لگا ہوگا تب ہی تقریب رکھی گئ ۔ فلیکس زارا خان کی پہلی کتاب کا بنایا گیا جبکہ جو کتاب "متاع۔ زارا” ہمارے ادارہ زرقاپبلیکیشنز انٹرنیشل سے چھپی ساری بات اس پر ہوئی ہمیں یہ دکھ نہیں کہ کتاب کی رونمائی کسی دوسرے ادارے نے کی یہ اچھی بات ہے یہ تقاریب تو بار بار بھی ہو جاتی ہیں اور کتاب کے حوالہ سے بات بھی ہوتی رہتی ہے لیکن یہاں دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ منتظمین اکادمی ادبیات لاہور اپنا کیا رول پیش کر رہے ہیں؟؟
یہ ایک قابل غور بات ہے جس پر اب حرکت ہونی از حد ضروری ہے
2016 یا 2018 میں شائد ایک تحریر ادب کا معتبر نام محترم غلام حسین ساجد کی لکھی فیس بک میں پڑھی کہ اکادمی ادبیات لاہور میں جمیل کیا کردار کر رہا ہے اس کے علاوہ عرفان احمد خان صاحب کی تحریر بھی نظر سے گزری اور سید قمر زیدی صاحب(مرحوم) نے بھی یہی بات اٹھائی تھی
آج آپ سب کو ایک اور سچ بھی بتاتی چلوں اس سے بیشتر راقمہ چار تقاریب اکادمی ادبیات میں کر چکی ہے وہ بھی سب اپنے پیسوں سے جمیل صاحب کا کہنا تھا جو بھی کھانے پینے کی چیز بچے گی وہ آپ واپس نہیں لے کر جائیں گی یہ سب چیزیں یہی رہیں گی اور ہم خود ہی تقسیم کریں گے راقمہ کھلے دل کی ہے ادب بخوبی واقف ہے اور وسیع قلب سے ہمیشہ انتظامات کیے کبھی کھانا تو کبھی چائے لوازمات وہ بھی پرتکلف اس پر صفائی کے پیسے الگ سے دینے اور خرچہ الگ سے دینا کونکہ یہ جمیل صاحب کا آرڈر ہوتا ستم تو دیکھیے ان تقاریب کو ہوا کیا گیا اکادمی ادبیات لاہور کی ہسٹری لیسٹ میں ان کا نام و نشان ہی نہیں ان کو ممتاز راشد لاہوری کی تنظیم خیال و فن کا نام دیا گیا یہ کیا ہے یہ ادب میں چوری نہیں تو کیا ہے کیا حق تلفی نہیں آپ من پسند لوگوں کو اوپر رکھیں پھر چاہے کوئی میرٹ کا ہو یا نہ ہو اور جو کام کر رہے ہیں ان کا نام و نشان ہی مٹانے کی کوشش کریں
ایک بار فیس بک پر شعر کے ایک مصری پر راقمہ نے گرہ لگائی تھی وہ اسی حوالہ سے ہے ملاحظہ فرمایے
"کوئی کتنی بھی چلے چال تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے”
مجھے ممتاز راشد صاحب سے اختلاف نہیں لیکن سچ کہنا چاہیے جمیل صاحب سے اختلاف ہے انہیں یہ زیب نہیں دیتا اللہ کے حضور کیا جواب دیں گے پھر آپ ایک عورت سے حسد کر رہے ہیں کیونکہ وہ میرٹ کی ہے اور سستی شہرت کے لیے کوئی غلط قدم نہیں اٹھاتی اپنے کردار کی مضبوط ہے اس لیے آپ ایسی خواتین کی تعریف نہیں کرتے آپ جیسے مرد صرف ان عورتوں کے نام لیتے ہیں جو بکاو ہوں اور مجھے ان باتوں سے اعتراض ہے ان مرد و خواتین سے جو اس طرح کی ہوچھی حرکتیں کریں زرقا ہمیشہ سچ لکھتی ہے کبھی کسی کو رسوا نہیں کیا نہ نام لیا آج مجبور ہو کے جمیل صاحب کا نام سرعام لیا کہ آپ جیسے لوگ معاشرے میں بدنما داغ ہیں جو اس عمر میں بھی اپنی بے ایمانیوں کو پروان چڑھاتے پھرتے ہیں آخرت کے خوف سے انجان ہوکر
اب آپ سب سمجھدار ہیں پڑھیے سوچیے اور انسانیت کا حق ادا کریں



