بین الاقوامیتازہ ترین

سنگاپور سمیت کئی ممالک کا نام و نشان مٹ جائے گا، ایلون مسک، اوسطاً ہر خاتون کے پاس ایک بچہ مستحکم آبادی کیلئے 2.1 کی شرح درکار۔

  • سنگاپور سمیت کئی ممالک کا نام و نشان مٹ جائے گا، ایلون مسک، اوسطاً ہر خاتون کے پاس ایک بچہ مستحکم آبادی کیلئے 2.1 کی شرح درکار
    معروف امریکی ارب پتی تاجر، سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس، ٹیسلا و اسپیس ایکس کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے متنبہ کیا ہے کہ سنگا پور سمیت کئی ممالک کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

اوسطاً سنگاپور میں ہر خاتون کے پاس ایک بچہ، مستحکم آبادی کیلئے 2.1 کی شرح درکار ہوتی ہے۔ اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ایلون مسک نے سنگاپور میں شرح پیدائش میں تشویشناک حد تک کمی کی جانب توجہ مبذول کرائی ۔ان کا تبصرہ ماریونوفل کی ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں تھا جس میں ماریونوفل نے ملک میں بچوں کے بحران اور اس کے اثرات کو کم کرنے میں روبوٹس کے کردار پر روشنی ڈالی جس کے جواب میں ایلون مسک کا کہنا تھا کہ سنگاپور اور بہت سے دیگر ممالک میں شرح پیدائش متاثر ہورہی ہے۔ ان کی اس پوسٹ نے ترقی یافتہ ممالک کو درپیش آبادیاتی چیلنجز کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والی بات چیت کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے ۔

یا د رہے کہ سنگاپور پچھلی تین دہائیوں سے اپنی ٹوٹل فرٹیلیٹی ریٹ میں مسلسل کمی کا شکار ہے۔ 2023 میں کی شرح پیدائش پہلی بار ایک سے کم ہوکر 0.97 کی تاریخی کم ترین سطح پر آگئی ۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اوسطاً سنگاپور میں ہر عورت کے پاس ایک بچہ ہے جبکہ ایک مستحکم آبادی کو برقرار رکھنے کے لئے 2.1کی شرح درکار ہے ۔

سنگاپور کی فرٹیلیٹی میں کمی کے بنیادی محرکات ابھرتے ہوئے سماجی رجحانات ہیں۔

سنگاپور کی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 25سے 34 سال کی عمر کی خواتین کی زیادہ تعداد جنہیں بچے پیدا کرنے کے لئے اہم تصور کیا جاتا ہے سنگل رہنے کا انتخاب کر رہی ہیں جبکہ 20سال کی عمر کی خواتین میں فرٹیلیٹی کی شرح میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ ٹوٹل فرٹیلیٹی ریٹ میں مجموعی کمی کا تقریباً 32 فیصد ہے۔1990 اور 2005 کے درمیان 25سے34 سال کی عمر کی خواتین میں فرٹیلیٹی کی شرح میں تیزی سے کمی واقع ہوئی جو 2023 میں معمولی بحالی ہوئی تھی۔

آبادی کے لحاظ سے چیلنجز کے باوجود روبوٹکس اور آٹومیشن میں سنگاپور کی ترقی کی وجہ سے مزدوروں کی کمی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کچھ صارفین نے سنگاپور کی مضبوط امیگریشن پالیسیوں کو اس کی آبادی میں کمی کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار کے طور پر اجاگر کیا کیونکہ حکومت نے طویل عرصے سے اپنی لیبر فورس کو بڑھانے اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی ہنر اور ورکرز پر انحصار کیا ہے۔
ایک اور صارف نےان مسائل کی طرف اشارہ کیا جو بچے پیدا کرنے میں ہچکچاہٹ کا باعث بنتے ہیں جن زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مالی عدم استحکام،خاندانی منصوبہ بندی میں رکاوٹوں سمیت دیگر شامل ہیں ۔ کئی افراد نے بڑھتے ہوئے مسابقتی اور مہنگے ماحول میں بچوں کی پرورش کی استطاعت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ٹوٹل فرٹیلیٹی ریٹ میں کمی سے سنگاپور کو جاپان، جنوبی کوریا اور بعض یورپی ممالک کی طرح مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

 

 

Related Articles

Back to top button