پاکستانمضامین

ڈاکٹر شیر افضل ملک نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی

33 سالہ پیشہ ورانہ سفر، بین الاقوامی اعزازات، علمی و تحقیقی خدمات اور لائبریری کمیونٹی کی قیادت کا ایک قابلِ فخر حوالہ

 

لاہور: قائداعظم لائبریری لاہور کے سینئر لائبریری پروفیشنل شیر افضل ملک نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے اپنی علمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ایک اہم اور قابلِ فخر سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ڈاکٹر شیر افضل ملک گزشتہ 33 برس سے قائداعظم لائبریری لاہور میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا یہ طویل پیشہ ورانہ سفر محنت، استقامت، علمی جستجو، ادارہ جاتی وابستگی اور علم و آگہی کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے ذاتی عزم و استقلال کا ثمر ہے بلکہ پاکستان کے لائبریری و انفارمیشن مینجمنٹ کے شعبے کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے۔

ڈاکٹر شیر افضل ملک نے اپنی پی ایچ ڈی انفارمیشن مینجمنٹ کے شعبے میں مکمل کی ہے۔ ان کی تحقیقی دلچسپیوں کا محور معلومات کی صحت مندی، معلوماتی آگہی، عوامی لائبریریوں کا معاشرتی کردار اور معلومات کی مؤثر حکمرانی جیسے اہم عصری موضوعات ہیں۔ ان کی تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ جدید دور میں عوامی لائبریریاں محض کتابوں کے حصول، تحفظ اور ترسیل کے مراکز نہیں بلکہ مستند معلومات تک رسائی، صحت سے متعلق معلوماتی آگہی، ذمہ دارانہ فیصلہ سازی اور ایک باخبر معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرنے والے علمی ادارے ہیں۔

بین الاقوامی شناخت اور عالمی سطح کے اعزازات

ڈاکٹر شیر افضل ملک کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور علمی خدمات کا اعتراف قومی سرحدوں سے آگے بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ انہیں امریکہ کی ممتاز علمی و تحقیقی تنظیم Association for Information Science and Technology (ASIS&T) کی جانب سے International InfoShare Award 2024 سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، عالمی علمی روابط اور لائبریری و انفارمیشن سائنسز کے شعبے میں خدمات کا اہم اعتراف ہے۔

ان کی بین الاقوامی پیشہ ورانہ شناخت کا ایک اور نمایاں حوالہ 2025ء تا 2028ء کے لیے ASIS&T کی International Membership Committee کا رکن مقرر ہونا ہے۔ یہ ذمہ داری عالمی سطح پر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور بین الاقوامی علمی برادری سے وابستگی پر اعتماد کی عکاس ہے۔ انہوں نے امریکہ میں بین الاقوامی علمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی بھی کی، جبکہ 2008ء میں بھارت میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی علمی سرگرمیوں میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

علمی و تحقیقی سرگرمیاں اور صحافتی خدمات

ڈاکٹر شیر افضل ملک کی شخصیت کا ایک اہم اور منفرد پہلو ان کی علمی، تحقیقی اور صحافتی وابستگی ہے۔ وہ ایک فعال لائبریری پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ قلم کالم نگار اور صحافی کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے سینکڑوں کالم پاکستان کے مختلف مؤقر اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں کے موضوعات میں بالخصوص مطالعے کا فروغ، ریڈنگ کلچر، مطالعے کی عادات، کتب بینی کی روایت، لائبریریوں کی اہمیت اور معاشرتی و سماجی مسائل شامل ہیں۔

ان کا قلم محض واقعات کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ معاشرتی شعور کی بیداری، علمی رویوں کی تشکیل اور مطالعے کی تہذیب کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں کتاب، مطالعہ، مستند معلومات اور آزادانہ فکر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی فکری وابستگی نے انہیں لائبریرین اور جرنلسٹ، دونوں حوالوں سے ایک منفرد شناخت عطا کی ہے۔ میڈیا اور صحافتی حلقوں میں بھی وہ ایک فعال اور معتبر مقام رکھتے ہیں۔

انہوں نے متعدد قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی، مختلف علمی و پیشہ ورانہ کانفرنسوں کے انعقاد میں آرگنائزر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں اور مختلف علمی فورمز پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات کانفرنس پروسیڈنگز کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ یہ سرگرمیاں ان کی تحقیق سے وابستگی، علمی مکالمے میں شرکت اور پیشہ ورانہ علم کو اجتماعی سطح پر آگے بڑھانے کے جذبے کی عکاس ہیں۔

ای لائبریری منصوبہ اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف

ڈاکٹر شیر افضل ملک کی انتظامی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ایک اہم مظہر راولپنڈی ای لائبریری منصوبہ بھی ہے، جہاں انہوں نے سربراہِ لائبریری کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے جدید لائبریری نظام، ڈیجیٹل معلومات تک رسائی اور علمی سہولیات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں جرنلسٹ فاؤنڈیشن اسلام آباد نے انہیں Life Achievement Award سے نوازا۔

انہوں نے مختلف اداروں میں لائبریری آٹومیشن، ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام، معلوماتی نظام کی بہتری اور پیشہ ورانہ مشاورت کے ذریعے بھی اپنی صلاحیتوں کا عملی اظہار کیا۔ ان کی خدمات اس حقیقت کی ترجمان ہیں کہ ایک جدید لائبریری پروفیشنل کا کردار صرف کتابوں کی درجہ بندی اور تنظیم تک محدود نہیں بلکہ وہ ڈیجیٹل تبدیلی، معلوماتی ٹیکنالوجی اور علمی وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

قائداعظم لائبریری کی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز

قائداعظم لائبریری لاہور، پاکستان کے ممتاز علمی، تحقیقی اور حوالہ جاتی اداروں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ڈاکٹر شیر افضل ملک کے لیے یہ ایک خصوصی اعزاز ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق وہ اس ادارے کے پہلے پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ لائبریری پروفیشنل ہیں۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی علمی کاوشوں کا اعتراف ہے بلکہ ادارے کے پیشہ ورانہ وقار اور علمی تشخص میں بھی ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔

یہ اعزاز اس تصور کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ لائبریری کا شعبہ محض کتابوں کے انتظام و انصرام کا نام نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق، علمی قیادت، ڈیجیٹل ترقی اور معاشرتی شعور کی تشکیل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

لائبریری کمیونٹی کی قیادت اور اجتماعی خدمات

ڈاکٹر شیر افضل ملک نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو ذاتی ترقی اور انفرادی کامیابیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان کی لائبریری کمیونٹی، بالخصوص پنجاب کے لائبریری پروفیشنلز کے اجتماعی مفادات، پیشہ ورانہ وقار، حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے بھی مسلسل کردار ادا کیا ہے۔

ان کی طویل وابستگی، قائدانہ صلاحیتوں اور کمیونٹی کے لیے خدمات کا ایک اہم اعتراف یہ ہے کہ پنجاب کے لائبریری پروفیشنلز نے انہیں دو مرتبہ پاکستان لائبریری ایسوسی ایشن پنجاب کا سیکرٹری جنرل بلامقابلہ منتخب کیا۔ یہ انتخاب محض ایک تنظیمی عہدے کا حصول نہیں بلکہ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ، اجتماعی جدوجہد، باہمی اعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں پر کمیونٹی کے اظہارِ اعتماد کی علامت ہے۔

وہ اس وقت بھی پاکستان لائبریری ایسوسی ایشن پنجاب کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور لائبریری پروفیشنلز کے درمیان اتحاد و یکجہتی، پیشہ ورانہ ترقی، سروس اسٹرکچر کی بہتری، عوامی لائبریریوں کے فروغ، لائبریری قانون سازی اور شعبے کے اجتماعی حقوق کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کا وژن ایک ایسے مضبوط اور باوقار لائبریری نظام کی تشکیل ہے جہاں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے، لائبریریوں کو ادارہ جاتی استحکام حاصل ہو اور علم و معلومات تک رسائی ہر شہری کا مؤثر حق بن سکے۔

ایک شخصیت، کئی علمی و پیشہ ورانہ حوالوں کی داستان

ڈاکٹر شیر افضل ملک کا سفر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کامیابی محض کسی ایک ڈگری، عہدے یا اعزاز کا نام نہیں بلکہ مسلسل علمی جستجو، عملی جدوجہد، پیشہ ورانہ دیانت اور اجتماعی خدمت کے امتزاج سے جنم لیتی ہے۔ ایک طرف وہ گزشتہ 33 برس سے قائداعظم لائبریری جیسے ممتاز قومی ادارے سے وابستہ ہیں، دوسری طرف بین الاقوامی علمی تنظیموں میں پاکستان کی نمائندگی، تحقیقی سرگرمیوں، صحافتی خدمات اور لائبریری کمیونٹی کی قیادت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

ان کی پی ایچ ڈی کی کامیابی اس طویل سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے، تاہم ان کے علمی و پیشہ ورانہ سفر کی اصل اہمیت اس امر میں پنہاں ہے کہ انہوں نے علم کو محض ذاتی ترقی کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ اسے معاشرتی بہتری، معلوماتی آگہی، مطالعے کے فروغ اور پیشہ ورانہ کمیونٹی کی ترقی سے وابستہ رکھا۔

بلاشبہ ڈاکٹر شیر افضل ملک کی علمی کامیابی، بین الاقوامی اعزازات، تحقیقی و صحافتی خدمات اور لائبریری پروفیشنلز کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد پاکستان کے لائبریری و انفارمیشن مینجمنٹ کے شعبے کے لیے ایک قابلِ تحسین سرمایہ ہیں۔

ان کی کامیابی ایک فرد کی علمی منزل نہیں بلکہ اس عزم، استقامت اور فکری وابستگی کی علامت ہے جو علم کو زندگی بھر کا سفر، تحقیق کو شعور کی جستجو اور اجتماعی خدمت کو پیشہ ورانہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button