تازہ ترین

بجلی بلوں میں بڑا الٹ پھیر: 200 یونٹ کی رعایت ختم کرنے اور ‘ٹارگیٹڈ سبسڈی’ لانے کی تیاری، وفاقی حکومت کا اہم فیصلہ

وفاقی حکومت نے بجلی کے صارفین کے لیے سلیب سسٹم پر مبنی موجودہ رعایت ختم کر کے صرف حقدار افراد کو ‘ٹارگیٹڈ سبسڈی’ دینے کا نیا پلان تیار کر لیا ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد ان صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے جو واقعی اس کے مستحق ہیں، جبکہ اضافی بلنگ کے ذریعے عام شہریوں پر پڑنے والے ناواجب بوجھ کو ختم کرنا ہے۔

ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے ن لیگ کے سینیٹر عابد شیر علی کے ‘توجہ دلاؤ نوٹس’ کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ قانون کے تحت اگر کوئی صارف 200 یونٹ کی حد سے صرف ایک یونٹ بھی اوپر چلا جائے تو اس پر اگلے 6 ماہ کے لیے بھاری اضافی چارجز لاگو ہو جاتے ہیں۔ اس ناانصافی کو ختم کرنے کے لیے اصلاحاتی کام تیزی سے جاری ہے۔

سولر صارف اور امیر طبقہ بھی فائدے اٹھا رہے ہیں: اویس لغاری

وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت ملک میں 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ تاہم، اس زمرے (Protected Category) میں بڑی تعداد ایسے خوشحال افراد کی ہے جنہوں نے اپنے گھروں میں سولر سسٹم لگا رکھے ہیں۔ وہ سرکاری گرڈ سے 200 یونٹ سے کم بجلی حاصل کر کے سبسڈی کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہیں، جو کہ اصل غریب اور مستحق طبقے کے ساتھ زیادتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اب سب کے لیے ایک جیسی بلائنڈ/مطلق سبسڈی کو ختم کر رہی ہے اور ایسا مؤثر طریقہ کار لایا جا رہا ہے جس سے رعایت صرف ضرورت مندوں تک پہنچے۔ مزید برآں، حکومت سبسڈائزڈ سلیب کی حد کو 200 یونٹ سے بڑھا کر 250 یونٹ کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔

201 یونٹ پر 400 یونٹ کا بل: سینیٹ میں عابد شیر علی کی شدید تنقید

اس سے قبل، توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے سینیٹر عابد شیر علی نے ڈسکوز (DISCOs) کے بلنگ طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا موجودہ ٹیرف سسٹم انتہائی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔ اگر کسی غریب صارف کے ماہانہ یونٹس 200 کے بجائے 201 ہو جائیں، تو فی یونٹ قیمت 15 روپے سے یکدم چھلانگ لگا کر 30 روپے ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صارف کو تقریباً 400 یونٹس کے برابر بجلی کا بل ادا کرنا پڑتا ہے، جو غریب طبقے کا معاشی قتل ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button