سندھ طاس معاہدہ

سندھ طاس معاہدہ: تاریخ، اہم نکات، پاکستان کے آبی حقوق اور بھارت سے حالیہ تنازع
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ اس پر 19 ستمبر 1960ء کو کراچی میں دستخط کیے گئے۔ عالمی بینک نے اس معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں، راوی، بیاس اور ستلج، کے پانی پر بھارت کو بنیادی حق دیا گیا، جبکہ تین مغربی دریاؤں، سندھ، جہلم اور چناب، کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق پاکستان کو حاصل ہوا۔ تاہم دونوں ملکوں کے لیے بعض محدود استعمال کی اجازتیں بھی موجود ہیں۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ ملک کی زراعت، آب پاشی، غذائی پیداوار اور آبی بجلی کا نظام دریاؤں سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025ء میں معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کا اعلان اور اس کے بعد پیدا ہونے والی قانونی کشیدگی نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اگست 2026ء میں مستقل ثالثی عدالت نے معاہدے کی حیثیت سے متعلق ایک فیصلہ بھی جاری کیا۔ اس لیے اس تنازع کو سمجھنے کے لیے معاہدے کی اصل شرائط، دونوں ملکوں کے مؤقف اور بین الاقوامی قانونی کارروائی کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم اور دریاؤں کے استعمال سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔ اسے انگریزی میں Indus Waters Treaty کہا جاتا ہے۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے تنازعات کو کم کرنا، دریاؤں کے استعمال کے لیے اصول طے کرنا اور زرعی و معاشی ضروریات کے لیے ایک مستقل نظام قائم کرنا تھا۔
معاہدے پر پاکستان کے صدر ایوب خان، بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور عالمی بینک کے نمائندے کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ اس کے لیے تقریباً نو سال تک مذاکرات جاری رہے۔ معاہدہ 12 جنوری 1961ء کو توثیقی دستاویزات کے تبادلے کے بعد نافذ ہوا، جبکہ اس کی بعض شرائط کا اطلاق یکم اپریل 1960ء سے مقرر کیا گیا تھا۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت چھ دریاؤں کی تقسیم
معاہدے میں دریائے سندھ کے نظام کے چھ بڑے دریاؤں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
مغربی دریا: پاکستان کے لیے مختص
-
دریائے سندھ
-
دریائے جہلم
-
دریائے چناب
ان دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق پاکستان کو دیا گیا ہے، البتہ معاہدے میں بھارت کے بعض مخصوص استعمال کی اجازت بھی موجود ہے۔
مشرقی دریا: بھارت کے لیے مختص
-
دریائے راوی
-
دریائے بیاس
-
دریائے ستلج
ان دریاؤں کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق بھارت کو دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ان دریاؤں سے متعلق پرانے آب پاشی نظام اور پانی کی منتقلی کے منصوبے بھی اس تاریخی تقسیم سے متاثر ہوئے۔
یہ تقسیم معاہدے کی بنیادی خصوصیت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دریا کے پانی پر دوسرے ملک کا ہر قسم کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہے۔ معاہدے میں مخصوص مقاصد، شرائط اور تکنیکی حدود مقرر ہیں۔
پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں پانی کا بڑا حصہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے نظام سے آتا ہے۔ اسی لیے معاہدے کی اہمیت صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق ملک کی معیشت اور عوام کی روزمرہ ضروریات سے بھی ہے۔
1۔ زراعت اور آب پاشی
پاکستان کی بڑی زرعی زمینوں کو فصلوں کے لیے نہری پانی درکار ہوتا ہے۔ گندم، چاول، کپاس، گنا اور دوسری فصلوں کی پیداوار میں آب پاشی کا اہم کردار ہے۔
اگر پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی آئے یا اس کے بہاؤ کے وقت میں بڑی تبدیلی ہو تو کسانوں کو فصلوں کی بوائی، آب پاشی اور پیداوار کے حوالے سے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم ہر زرعی نقصان کو صرف سندھ طاس معاہدے سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ بارش، زیر زمین پانی، ڈیموں کا انتظام، موسمی تبدیلی اور پانی کے ضیاع جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
2۔ غذائی تحفظ
زرعی پیداوار میں کمی سے خوراک کی قیمتوں، کسانوں کی آمدنی اور غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے لیے دریاؤں کے پانی کی قابل اعتماد دستیابی ایک معاشی اور قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔
3۔ آبی بجلی کی پیداوار
پاکستان میں پانی کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے توانائی کے نظام کا حصہ ہیں۔ دریاؤں کے بہاؤ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تبدیلی بعض منصوبوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود بجلی کی پیداوار پر اثر کا درست اندازہ لگانے کے لیے متعلقہ ڈیم، موسم، پانی کے بہاؤ اور بجلی کی طلب کے اعداد و شمار درکار ہوتے ہیں۔
4۔ پانی کی طویل مدتی منصوبہ بندی
معاہدہ دونوں ملکوں کو دریاؤں کے استعمال کے لیے ایک قانونی ڈھانچا فراہم کرتا ہے۔ اس سے آب پاشی، بجلی، ذخیرہ آب اور دوسرے آبی منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے۔ معاہدے پر اختلافات کی صورت میں مقررہ طریقہ کار تنازع کو بات چیت اور قانونی کارروائی کے ذریعے حل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی تاریخ اور پس منظر
پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سامنے آیا۔ اس وقت نہری نظام، زرعی زمینیں اور دریاؤں سے پانی حاصل کرنے کے انتظامات نئی سرحدوں کے دونوں طرف پھیلے ہوئے تھے۔
اپریل 1948ء میں پانی کی فراہمی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ بعد ازاں عالمی بینک کی مدد سے مذاکرات شروع ہوئے، جن کا مقصد پانی کی تقسیم کے لیے ایسا نظام بنانا تھا جو دونوں ملکوں کی ضروریات کو مدنظر رکھے۔
تقریباً نو سال کے مذاکرات کے بعد 19 ستمبر 1960ء کو کراچی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے نے پانی کی تقسیم کے لیے واضح اصول اور اختلافات حل کرنے کا طریقہ فراہم کیا۔
عالمی بینک کا کردار کیا ہے؟
عالمی بینک نے معاہدے کے قیام میں مذاکرات کی سہولت فراہم کی اور معاہدے کا فریق بھی بنا۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں کہ عالمی بینک ہر آبی تنازعے میں خود حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
معاہدے کے تحت مختلف نوعیت کے اختلافات کے لیے الگ طریقے مقرر ہیں۔ بعض معاملات مستقل سندھ طاس کمیشن میں زیر بحث آتے ہیں، بعض غیر جانب دار ماہر کے پاس بھیجے جاتے ہیں، جبکہ مخصوص تنازعات کے لیے ثالثی عدالت کا طریقہ موجود ہے۔ عالمی بینک کا کردار ان طریقہ کار کے بعض انتظامی اور تقرری سے متعلق امور میں محدود ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی اہم شرائط
معاہدے کو سمجھنے کے لیے اس کی چند بنیادی شرائط جاننا ضروری ہے۔
مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حقوق
پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق حاصل ہے۔ تاہم بھارت کو بھی معاہدے میں طے شدہ حدود کے اندر بعض استعمال کی اجازت ہے، جن میں مخصوص گھریلو، زرعی اور آبی بجلی کے مقاصد شامل ہیں۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ بھارت مغربی دریاؤں پر کسی بھی قسم کا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا منصوبہ معاہدے کی شرائط، پانی کے استعمال کی حدود اور متعلقہ تکنیکی تقاضوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
مشرقی دریاؤں پر بھارت کے حقوق
راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کے استعمال کا بنیادی حق بھارت کو دیا گیا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کو اپنے بعض علاقوں کی آب پاشی کے لیے مغربی دریاؤں سے پانی منتقل کرنے والے نہری اور آبی منصوبے تعمیر کرنا پڑے۔
معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم صرف دریاؤں کے نام مقرر کرنے تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے ساتھ پانی کی منتقلی اور متعلقہ تعمیراتی انتظامات بھی اہم تھے۔
مستقل سندھ طاس کمیشن
معاہدے میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے مستقل سندھ طاس کمیشن قائم کرنے کا انتظام ہے۔ دونوں ملک اپنے اپنے سندھ طاس کمشنر مقرر کرتے ہیں۔
یہ کمیشن دریاؤں کے استعمال، آبی منصوبوں اور معاہدے سے متعلق سوالات پر بات چیت کا اہم فورم ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو ابتدائی مرحلے میں حل کرنے اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے رابطہ برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازع کیوں پیدا ہوا؟
دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ مغربی دریاؤں پر بنائے جانے والے آبی بجلی کے منصوبوں کی تعمیر اور ان کے ڈیزائن ہیں۔
بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ اسے معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر مخصوص شرائط کے ساتھ آبی بجلی کے منصوبے بنانے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان کو بعض منصوبوں کے ڈیزائن، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور پانی کے بہاؤ پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات رہے ہیں۔
اس اختلاف کی نمایاں مثالیں کشن گنگا اور رتلے آبی بجلی کے منصوبے ہیں۔ ان منصوبوں سے متعلق معاملات میں دونوں ملکوں نے معاہدے کے تحت مختلف قانونی طریقہ کار اختیار کیے۔
کشن گنگا منصوبہ
کشن گنگا منصوبہ دریائے جہلم کے نظام سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کے ڈیزائن اور پانی کے رخ کی تبدیلی کے بارے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔
اس طرح کے معاملات میں بنیادی قانونی سوال یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ منصوبے کی تعمیر اور پانی کا استعمال معاہدے کی مقرر کردہ حدود کے مطابق ہے یا نہیں۔
رتلے آبی بجلی منصوبہ
رتلے منصوبہ دریائے چناب کے نظام پر بھارت میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے بعض ڈیزائن عناصر، خصوصاً پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور متعلقہ تکنیکی شرائط، ثالثی کارروائی کا حصہ بنے۔
31 اگست 2026ء کو مستقل ثالثی عدالت نے رتلے منصوبے کے حوالے سے عبوری اقدامات کا حکم بھی جاری کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں منصوبوں کے تکنیکی اور قانونی پہلو بھی شامل ہیں۔
2025ء میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کا اعلان کیوں کیا؟
22 اپریل 2025ء کو پہلگام، مقبوضہ جموں و کشمیر، میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے 23 اپریل 2025ء کو سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کا اعلان کیا۔ بھارتی حکومت نے اپنے اقدام کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مؤقف سے جوڑا اور کہا کہ معاہدہ اس وقت تک غیر مؤثر رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت سے متعلق بھارتی مطالبات پورے نہیں کرتا۔
پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے میں کسی ایک فریق کو یک طرفہ طور پر اسے معطل یا غیر مؤثر کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔
یہاں دو باتوں میں فرق کرنا ضروری ہے: بھارت نے معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کا اعلان کیا، لیکن اس اعلان کی قانونی حیثیت خود ایک بین الاقوامی تنازع بن گئی۔ کسی حکومت کا یک طرفہ اعلان اور اس اعلان کا بین الاقوامی قانون کے تحت درست ہونا دو الگ سوال ہیں۔
سندھ طاس معاہدے پر تازہ ترین صورت حال، اکتوبر 2026ء
اس تنازع میں ایک اہم پیش رفت 31 اگست 2026ء کو سامنے آئی، جب مستقل ثالثی عدالت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کارروائی میں معاہدے کی حیثیت سے متعلق فیصلہ جاری کیا۔
عدالت کی جانب سے جاری فیصلے اور اس کے قانونی اثرات کو سمجھتے وقت چند اہم نکات سامنے رکھنا ضروری ہے۔
- ثالثی عدالت کا فیصلہ: عدالت نے بھارت کے معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کے اعلان کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا۔ پاکستانی حکومت کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کا یک طرفہ اقدام معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتا۔
- رتلے منصوبے پر عبوری اقدامات: عدالت نے رتلے آبی بجلی منصوبے کے حوالے سے عبوری حکم جاری کیا، جس کا مقصد زیر سماعت معاملے کے دوران بعض تعمیراتی سرگرمیوں کو مخصوص حدود میں رکھنا تھا۔
- بھارت کا مؤقف: بھارت نے ثالثی عدالت کے اختیار اور فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس لیے عدالت کے فیصلے اور بھارت کے عملی ردعمل کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی سے متعلق تمام اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ آبی منصوبوں، معاہدے کی تشریح اور قانونی طریقہ کار سے متعلق تنازعات بدستور اہم ہیں۔
تازہ ترین دستیاب معلومات کے مطابق، سندھ طاس معاہدے کی حیثیت پر قانونی اختلاف جاری ہے اور دونوں ملکوں کے مؤقف میں بنیادی فرق برقرار ہے۔ اس لیے اس معاملے کو کسی حتمی سیاسی تصفیے کے بجائے جاری قانونی اور سفارتی تنازع کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔
کیا بھارت پاکستان کا پانی مکمل طور پر روک سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف سیاسی بیان کی بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا۔ پانی کے بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ تبدیل کرنے کی عملی صلاحیت کا انحصار متعلقہ دریا، ڈیموں اور بیراجوں کی گنجائش، پانی کی مقدار، موسمی حالات اور دستیاب آبی ڈھانچے پر ہوتا ہے۔
اسی طرح قانونی طور پر کسی اقدام کی اجازت ہونا یا نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے۔ سندھ طاس معاہدہ دریاؤں کے استعمال کے لیے شرائط مقرر کرتا ہے، جبکہ پانی کے بہاؤ میں فوری اور مکمل تبدیلی کے دعوے کو جانچنے کے لیے تکنیکی شواہد درکار ہوتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ بھارت ایک اعلان کے ذریعے فوری طور پر پاکستان کو تمام پانی سے محروم کر سکتا ہے۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی مناسب نہیں کہ پانی کی فراہمی کو متاثر کرنے کی کوئی صلاحیت یا خطرہ موجود ہی نہیں۔ اصل صورت حال کو سمجھنے کے لیے دریا وار پانی کے بہاؤ، ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور متعلقہ منصوبوں کے قابل اعتماد اعداد و شمار دیکھنا ضروری ہے۔
سندھ طاس معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں پاکستان کو کیا مسائل پیش آ سکتے ہیں؟
معاہدے کی قانونی حیثیت میں غیر یقینی صورت حال پاکستان کے لیے کئی طرح کے خدشات پیدا کر سکتی ہے۔
زراعت پر دباؤ
اگر پانی کی دستیابی میں نمایاں کمی واقع ہو یا آب پاشی کے لیے درکار وقت پر پانی نہ ملے تو کسانوں کو فصلوں کی پیداوار اور کاشت کے فیصلوں میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس کا اثر زرعی آمدنی اور خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
پانی کے انتظام میں غیر یقینی
پاکستان کو اپنے آبی ذخائر، نہری نظام اور آب پاشی کے منصوبوں کی طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے قابل اعتماد معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اگر دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ کم ہو جائے تو منصوبہ بندی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
توانائی اور معاشی اثرات
آبی بجلی کے منصوبے دریاؤں کے بہاؤ سے متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم توانائی پر حقیقی اثر کا اندازہ لگانے کے لیے منصوبہ وار معلومات درکار ہیں۔ صرف معاہدے کے تنازع کی بنیاد پر بجلی کی پیداوار میں کسی مخصوص کمی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
پانی پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے اہم قدرتی وسیلہ ہے۔ اگر آبی تنازعات کو بات چیت اور قانونی طریقوں سے حل نہ کیا جائے تو دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے معاہدے کے تحت موجود مذاکراتی اور قانونی راستوں کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
پاکستان کو اب کیا کرنا چاہیے؟
سندھ طاس معاہدے سے متعلق موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے چند عملی اقدامات اہم ہیں۔
-
قانونی راستہ جاری رکھنا: معاہدے کے تحت دستیاب قانونی طریقہ کار کو شواہد اور متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر استعمال کرنا چاہیے۔
-
آبی اعداد و شمار کی نگرانی: دریاؤں کے بہاؤ، بارشوں، ذخائر اور پانی کی دستیابی سے متعلق قابل اعتماد معلومات جمع کرنا ضروری ہے۔
-
پانی کا مؤثر استعمال: نہروں میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے، آب پاشی کے بہتر طریقے اپنانے اور فصلوں کی ضروریات کے مطابق پانی استعمال کرنے سے دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔
-
آبی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری: مناسب منصوبہ بندی کے تحت پانی ذخیرہ کرنے اور اسے مختلف علاقوں تک پہنچانے کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
-
سفارتی رابطہ برقرار رکھنا: معاہدے کی تشریح اور عمل درآمد سے متعلق اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔
ان اقدامات سے پانی کی قلت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ معاہدے کے قانونی تحفظ یا دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا مکمل متبادل نہیں ہیں۔
خلاصہ
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس نے کئی دہائیوں تک دریاؤں کے استعمال کے لیے اصول فراہم کیے۔ اس کی اہمیت پاکستان کے لیے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ملک کی زراعت، آب پاشی اور آبی بجلی کا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں سے جڑا ہوا ہے۔
اپریل 2025ء میں بھارت کے معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کے اعلان اور اگست 2026ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد تنازع ایک اہم قانونی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ پانی کے مؤثر استعمال، ذخیرہ آب کی بہتر منصوبہ بندی اور سفارتی کوششوں پر بھی توجہ دے۔ دیرپا حل کے لیے قانونی وضاحت، قابل اعتماد آبی معلومات اور مسلسل رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔



