مضامین

حوثی اور سعودی عرب کا تنازع: وجوہات اور موجودہ صورتحال

حوثی اور سعودی عرب کا تنازع دراصل صرف دو فریقوں کے درمیان سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ یمن کی خانہ جنگی، علاقائی طاقت کی کشمکش، ایران اور سعودی عرب کے باہمی اختلافات اور بحیرہ احمر کی سلامتی سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ تنازع ہے۔ اس تنازع میں گزشتہ برسوں کے دوران میزائل اور ڈرون حملے، فضائی کارروائیاں، سرحدی جھڑپیں اور سفارتی کوششیں شامل رہی ہیں۔

اکتوبر ۲۰۲۶ تک صورتحال دوبارہ انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر ۲۰۲۶ میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف سرحد پار حملے کیے، جن میں شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ یمن کے اندر بھی لڑائی کئی محاذوں پر تیز ہوئی۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ۲۰۲۲ کی جنگ بندی کے بعد یمن ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے کی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔

حوثی کون ہیں؟

حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، یمن کی ایک سیاسی اور مسلح تحریک ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر یمن کے شمالی علاقوں میں مضبوط ہوئی اور ۲۰۱۴ میں اس نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر کے ملک کے سیاسی بحران کو مسلح تنازع میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق حوثیوں نے یمن میں ایسے اقدامات بھی کیے جن پر سلامتی کونسل نے تشویش ظاہر کی، جن میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے، بچوں کی بھرتی، بارودی سرنگوں کا استعمال اور انسانی امداد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے حوثیوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف سرحد پار حملوں سے بھی منسلک کیا ہے۔

حوثیوں کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور مختلف بین الاقوامی تحقیقی اداروں نے حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں ایرانی ٹیکنالوجی اور معاونت کے کردار کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم حوثی خود اپنی تحریک کو یمنی سیاسی اور عسکری جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

سعودی عرب حوثیوں کے خلاف جنگ میں کیوں شامل ہوا؟

یمن میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد سعودی عرب نے مارچ ۲۰۱۵ میں ایک عرب فوجی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن میں فوجی کارروائی شروع کی۔ سعودی عرب کا مؤقف تھا کہ اس کا مقصد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد کرنا اور ملک میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے عسکری قبضے کو روکنا تھا۔

سعودی عرب کے لیے یمن کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ دونوں ممالک کی طویل سرحد بھی ہے۔ ریاض کو خدشہ رہا ہے کہ یمن میں ایک مضبوط مسلح گروہ اس کی جنوبی سرحد، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کے لیے مستقل خطرہ بن سکتا ہے۔

سعودی حکومت نے اپنے ۲۰۱۵ کے مؤقف میں کہا تھا کہ یمنی حکومت نے فوجی مدد کی درخواست کی تھی اور سعودی قیادت میں کارروائی اسی درخواست کے جواب میں شروع کی گئی۔

ایران کا حوثیوں سے کیا تعلق ہے؟

حوثی سعودی عرب کے ساتھ تنازع میں ایران ایک اہم علاقائی عنصر ہے۔ مختلف تحقیقی جائزوں کے مطابق حوثیوں کو ایران سے ہتھیاروں، ٹیکنالوجی اور تربیت سمیت مختلف نوعیت کی مدد حاصل رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی دہشت گردی سے متعلق رپورٹ میں بھی حوثیوں کے ایران سے تعلق اور سعودی عرب کے خلاف ان کے سرحد پار حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یمن کا تنازع صرف ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ قرار دے کر مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں یمن کے اندرونی سیاسی، قبائلی، معاشی اور علاقائی اختلافات بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کیسے بڑھا؟

۲۰۱۵ کے بعد حوثیوں اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان براہ راست فوجی کارروائیاں بڑھتی گئیں۔ حوثیوں نے سعودی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔

وقت کے ساتھ حوثیوں کی ڈرون اور میزائل صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ تحقیقی ادارے مرکز برائے اسٹریٹجک اور بین الاقوامی مطالعات کے مطابق ۲۰۱۶ سے ۲۰۲۱ تک سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے ہزاروں حملوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں ڈرون، بیلسٹک میزائل اور دیگر دور مار ہتھیار شامل تھے۔

سعودی عرب کے لیے سب سے اہم خدشات میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈے، سرحدی شہر اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شامل رہا۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے

حوثیوں نے مختلف اوقات میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور تیل کی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

۲۰۱۹ میں سعودی عرب کی ابقیق اور خریص کی تیل تنصیبات پر حملوں نے عالمی توجہ حاصل کی۔ حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ سعودی عرب اور امریکا نے حملوں کے ماخذ اور ایران کے کردار کے بارے میں مختلف الزامات عائد کیے۔

۲۰۲۲ کے آغاز میں بھی سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فروری ۲۰۲۲ میں ابہا کے قریب ایک ڈرون کو روکنے کے بعد اس کے ملبے سے ۱۲ افراد زخمی ہوئے۔ مارچ میں سعودی تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

جدہ کے تیل مرکز پر حملہ

۲۵ مارچ ۲۰۲۲ کو جدہ میں سعودی آرامکو کے ایک ایندھن ذخیرہ مرکز پر ڈرون اور میزائل حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعے کے فوراً بعد یمن کے تنازع میں جنگ بندی کی کوششیں تیز ہوئیں۔

یہ حملہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ یمن کی جنگ کے اثرات سعودی عرب کے اہم شہری اور اقتصادی مراکز تک پہنچ سکتے ہیں۔

۲۰۲۲ کی جنگ بندی نے کیا بدلا؟

اپریل ۲۰۲۲ میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی نافذ ہوئی۔ اس جنگ بندی نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی پیدا کی اور یمن کے اندر بھی نسبتاً پرسکون صورتحال پیدا ہوئی۔

اگرچہ جنگ بندی کی باقاعدہ مدت بعد میں ختم ہوگئی، لیکن اس کے بعد بھی کئی محاذوں پر پہلے جیسی وسیع جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی۔ اقوام متحدہ نے اسے یمن میں نسبتاً طویل عرصے کے سکون کی بنیاد قرار دیا۔

اسی دور میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے امکانات بھی پیدا ہوئے۔ مقصد صرف سرحدی حملے روکنا نہیں بلکہ یمن کے وسیع سیاسی بحران کے لیے راستہ تلاش کرنا تھا۔

۲۰۲۶ میں تنازع دوبارہ کیوں بھڑکا؟

۲۰۲۶ میں یمن کی صورتحال دوبارہ تیزی سے خراب ہوئی۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے اگست ۲۰۲۶ میں خبردار کیا کہ یمن کو اپریل ۲۰۲۲ کی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ شروع ہونے کا سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی مأرب اور حضرموت میں کارروائیوں، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

ستمبر میں حالات مزید خراب ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق حوثیوں نے مغربی ساحل سمیت مختلف علاقوں میں بڑی فوجی کارروائیاں کیں اور سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے۔

سعودی عرب پر تازہ حملوں کی صورتحال

ستمبر ۲۰۲۶ میں حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ۸ ستمبر کے حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران متاثر ہوئے اور ۷۳ شہری زخمی ہوئے۔ شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

سلامتی کونسل نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں، بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات اور باب المندب کے علاقے میں حوثیوں کی پیش قدمی کو ایسے عوامل قرار دیا جو تنازع کو مزید پھیلا سکتے ہیں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

باب المندب کیوں اہم ہے؟

باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کا ایک اہم حصہ گزرتا ہے۔

یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی اس لیے صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتی کہ اس علاقے میں ہونے والی عسکری کارروائیاں تجارتی جہازوں اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے ستمبر ۲۰۲۶ میں مغربی ساحل اور المخا کے علاقے میں لڑائی کو خاص طور پر اہم قرار دیا کیونکہ یہ علاقہ باب المندب کے قریب واقع ہے۔

اس تنازع کا یمن کے عوام پر کیا اثر پڑا؟

اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام یمنی شہریوں کو ہوا ہے۔ طویل لڑائی نے گھروں، سڑکوں، صحت کے مراکز، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کو متاثر کیا، جبکہ لاکھوں افراد کو مختلف اوقات میں نقل مکانی کرنا پڑی۔

۲۰۲۶ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی نے بھی نقل مکانی میں اضافہ کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر کے آغاز سے ملک بھر میں ۱۱ ہزار ۴۰۰ سے زیادہ خاندانوں کے نئے بے گھر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں بڑی تعداد تعز اور جنوبی حدیدہ کے علاقوں سے تھی۔

اقوام متحدہ نے بار بار خبردار کیا ہے کہ مزید فوجی کشیدگی پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

کیا یہ صرف سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ ہے؟

نہیں۔ اسے صرف دو فریقوں کی جنگ سمجھنا یمن کے بحران کو بہت سادہ بنا دے گا۔

اس تنازع میں کئی سطحیں شامل ہیں:

  • یمن کی داخلی سیاسی اور علاقائی تقسیم
  • حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان اقتدار کی کشمکش
  • سعودی عرب کے سرحدی اور قومی سلامتی کے خدشات
  • ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی مسابقت
  • جنوبی یمن کی سیاسی تحریکیں
  • بحیرہ احمر اور باب المندب کی سلامتی
  • عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل

اسی لیے کسی ایک فوجی کارروائی سے اس تنازع کا مستقل حل ممکن نظر نہیں آتا۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان امن کیوں مشکل ہے؟

امن کی راہ میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ دونوں طرف بنیادی سیاسی اور سلامتی کے مفادات مختلف ہیں۔

سعودی عرب اپنی سرحدوں پر حملوں کا خاتمہ، یمن میں استحکام اور ایک ایسا سیاسی انتظام چاہتا ہے جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنے۔ دوسری طرف حوثی یمن میں اپنے سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ یمن کے اندر موجود دوسرے سیاسی اور عسکری گروہوں کے مفادات بھی کسی بھی امن معاہدے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

اقوام متحدہ مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یمن کا پائیدار حل صرف مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور یمنیوں کی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔

اقوام متحدہ کا کردار کیا ہے؟

اقوام متحدہ یمن میں جنگ بندی، انسانی امداد اور سیاسی مذاکرات کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ سعودی عرب، عمان، یمنی حکومت، حوثیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔

جون ۲۰۲۶ میں گرونڈبرگ نے ریاض کا دورہ کیا اور سعودی حکام اور یمنی قیادت کے ساتھ سیاسی عمل، معاشی مسائل اور یمن میں امن کے امکانات پر بات کی۔ جولائی میں بھی انہوں نے ریاض اور مسقط میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے۔

ستمبر ۲۰۲۶ میں اقوام متحدہ نے دوبارہ خبردار کیا کہ موجودہ عسکری کشیدگی کو روکنا ضروری ہے، کیونکہ مزید جنگ یمن اور پورے خطے کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟

موجودہ صورتحال میں تین بڑے امکانات نظر آتے ہیں۔

پہلا امکان یہ ہے کہ فریقین دوبارہ مذاکرات کی طرف واپس جائیں اور ۲۰۲۲ کے بعد پیدا ہونے والے نسبتاً پرسکون ماحول کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔ یہ یمن کے لیے سب سے کم نقصان دہ راستہ ہوگا۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ محدود فوجی کارروائیاں جاری رہیں لیکن وہ مکمل جنگ میں تبدیل نہ ہوں۔ ایسی صورتحال میں یمن میں سیاسی تعطل اور انسانی بحران برقرار رہ سکتا ہے۔

تیسرا اور زیادہ خطرناک امکان بڑے پیمانے کی جنگ کی واپسی ہے۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملے بڑھتے ہیں اور یمن کے اندر بھی مختلف محاذ کھلتے ہیں تو اس کے اثرات بحیرہ احمر، عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ موجودہ صورتحال ۲۰۲۲ کی جنگ بندی کے بعد یمن کو بڑے پیمانے کی جنگ کی طرف واپس لے جا سکتی ہے۔

خلاصہ

حوثی اور سعودی عرب کا تنازع کئی سال سے جاری یمن کے وسیع بحران کا ایک اہم حصہ ہے۔ ۲۰۱۵ میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، جبکہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرے میں ڈالا۔

۲۰۲۲ کی اقوام متحدہ کی جنگ بندی نے کئی سال کی شدید سرحد پار کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن یمن کا بنیادی سیاسی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ۲۰۲۶ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی نے ظاہر کر دیا ہے کہ عارضی سکون کو مستقل امن سمجھنا درست نہیں تھا۔

اب پائیدار حل کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ یمن کے مختلف فریقوں کے درمیان سیاسی سمجھوتہ، سعودی عرب کی سلامتی کے خدشات کا حل، سرحد پار حملوں کا خاتمہ اور یمنیوں کی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل ضروری ہے۔ اقوام متحدہ بھی اسی راستے کو پائیدار حل کی بنیاد قرار دے رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button