
لاہور (31 جنوری) نگران وزیر بلدیات پنجاب ابراہیم حسن مراد نے اپنے محکمہ کے افسران کو ہدائت کی ہے کہ وہ پیدائش، وفات اور شادی رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور تیز بنانے کے لیے ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرائیں کیونکہ اس حوالے سے شہریوں کو بہت زیادہ شکایات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت شہریوں کو گھر کی دہلیز پر پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ مختلف شہروں اور دیہات میں ادھورے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے بھی عوام سخت مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں نیز تاخیر سے منصوبوں کی لاگت میں بھی بے پناہ اضافہ ہو جاتاہے لہٰذا جاری ترقیاتی سکیمیں جلد از جلد مکمل کی جائیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں کی تفویض اور ادائیگیوں کے نظام کو بھی شفاف بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ کمیشن مافیا کی وجہ سے مختص فنڈز کا بڑا حصہ کرپشن کہ نذر ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ غیر معیاری کاموں کی صورت میں نکلتا ہے۔ ابراہیم حسن مراد منگل کے روزڈی جی لوکل گورنمنٹ بورڈ سے بریفنگ لے رہے تھے۔ وزیر بلدیات نے افسران کو ڈیتھ رجسٹریشن کا عمل آسان بنانے کے لیے ایک ھفتے میں جامع تجاویز دینے کی ہدائت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کو ہسپتالوں کے ایم آئی ایس سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو بلاتاخیر یہ سرٹیفکیٹ مل سکیں۔ انہوں نے تنبیہہ کی کہ یونین کونسلوں سے جعلی سرٹیفکیٹس کا اجرا سختی سے روکاجائے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی افسران اور دیگر عملے کی موثر کیپسٹی بلڈنگ کے لیے باقاعدگی سے تربیتی کورس منعقد کیے جائیں۔نگران وزیر بلدیات نے پنجاب بھر میں لوکل گورنمنٹ کے کرایے پر لیے گئے دفاتر کی تفصیل بھی طلب کر لی۔
قبل ازیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 2030 ء تک سو فیصد برتھ رجسٹریشن کا ہدف ہے جو فی الحال 82 فیصد تک ہے ۔ڈی جی نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ کی فیسیں وصول کرنے کے لیے ای-کیش سسٹم لا رہے ہیں۔لوکل گورنمنٹ کی ایپ بلدیہ آن لائن کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے متعدد سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کی کل 852 ترقیاتی سکیموں پر کام ہو رہا ہے جبکہ رواں مالی سال میں اب تک 79 سکیمیں مکمل ہوئی ہیں ۔ بعد ازاں سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے بھی صوبائی وزیر کو بریفنگ دی۔



