سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کی سیرت و کردار امت کے لئے روشنی کا مینار ہے. منہاج القرآن علماء کونسل کے زیر اہتمام”عظمت و شان سیدنا صدیق اکبر ؓ“کے عنوان سے منعقدہ فکری نشست سے خطاب
مفتی غلام اصغرصدیقی، علامہ اشفاق علی چشتی، علامہ وجہہ اللہ قادری، مفتی رفیق قادری، علامہ خلیل حنفی، و دیگر علماکی شرکت

لاہور(15جنوری)خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے یوم وصال کے موقع پر منہاج القرآن علماء کونسل کے زیر اہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ”عظمت و شان سیدناابوبکر صدیق ؓ“ کے عنوان سے فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ فکری نشست میں منہا ج القرآن علماء کونسل کے مرکزی، صوبائی، ضلعی رہنماؤں نے شرکت کی۔ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان و منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی ناظم علامہ میر محمد آصف اکبر قادری نے کہا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا عہد خلافت اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے۔ آپ ؓ کی سیرت و کردار امت کے لئے روشنی و رہنمائی کا مظہر ہے۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کا دور خلافت بے مثال اصلاحات سے عبارت ہے۔حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کی سیرت و کردار امت کے لئے روشنی اور رہنمائی کا مینار ہے۔ علامہ میر آصف اکبر قادری نے مزید کہا کہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے دورخلافت میں دین اسلام کی وہ مثالی خدمت کی کہ امت مسلمہ تاقیامت ان کے اس احسان کو نہیں بھول سکتی۔ انہوں نے کہا کہ خلیفہ اول ؓ کا دور خلافت اسلامی تعلیمات کا عملی مظہر اور اسلامی تعلیمات کا زریں حصہ تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے جس تدبر، حکمت اور عزم و استقامت سے فتنوں کا قلع قمع کیا انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ خلیفہ اول ؓ کے دور خلافت کی فتوحات،کامیابیاں و کامرانیاں ایسے عنوانات سے عبارت ہیں جس پر اسلام کی تاریخ کو ہمیشہ فخر رہے گا۔ علامہ میر آصف اکبر قادری نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے بیت المال قائم کرکے معذوروں، یتیموں اور مستحقین کے سروں پر دست شفقت رکھا۔ آپؓ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جھوٹے مدعیان نبوت کی سرکوبی کی اور اپنے شاندار عمل سے ثابت کیا کہ عشق مصطفی ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت ایمان کی اساس ہے۔انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ریاست مدینہ کے اندر تمام شہریوں کو ان کے جائز حقوق و مقام دیا اور بہترین حسن انتظام سے تعلیمات مصطفوی ﷺ کو مضبوط و مستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا زمانہ خلافت نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کا عملی پیکر تھا۔آج کے حکمران سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے حکومتی اور انتظامی ماڈل سے سیکھیں۔ فکری نشست میں علامہ مفتی غلام اصغرصدیقی، علامہ پیر محمد اشفاق چشتی، علامہ عثمان سیالوی، علامہ وجہہ اللہ قادری، علامہ محمد خلیل حنفی،مفتی شہزاد احمد سجاد، علامہ رفیق رندھاوا، مفتی ابوبکر قادری، علامہ طیب اکرم و دیگر علماء کرام موجود تھے۔



