ادبپاکستانتازہ ترینفن اور فنکار

دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔

سفر حیات

حافظ ڈاکٹر ہارون ادریس

(1973 تا 2021)

( غلام عائشہ )

سب سے اہم زندگی کونسی ہے؟ طلباء کی کثیر تعداد نے محترم استاد کی آواز پر ہاتھ بلند کیئے استاد محترم نے طاٸرانہ نظر ڈالی اکثریت آخروی زندگی کو اہم قرار دے رہے تھے۔ ھارون ادریس صاحب ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸے یوں گویا ہوٸے۔”نہیں آخرت کی زندگی نہیں ہے بلکہ دنیا کی زندگی ہے۔“ یہی فلسفہ حیات ہے۔ ”دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔“ ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ابدی زندگی کا انحصار دنیاوی زندگی پر ہے۔ یہی فلسفہ سمجھانے نبی آخرالزمان دنیا میں تشریف لاٸے۔ دنیا کی کھیتی کو جیسے جیسے ہم اپنے اعمال سے سیراب کرینگے ویسے ہی آخرت میں ہمارا حصہ بڑھتا جاٸے گا۔ وگرنہ سوکھی کھیتی آخرت میں ہمارا حصہ کم کرتی جاٸے گی۔ لہزا بتاٸیں کونسی زندگی سب سے اہم ہے؟ طلباء نے یکسر جواب دیا ”دنیا کی زندگی“۔

حافظ ڈاکٹر ہارون ادریس ١٩٧٣ کو گجرات میں پیدا ہوٸے بعد ازاں آپ کی فیملی لاہور منتقل ہوٸیں۔ ابتداٸی تعلیم گورنمنٹ پاٸلٹ سکینڈری سکول لاہور سے مکمل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اور ایم فل جبکہ ٢٠١٢ میں جرمنی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ قوم وملت کی خدمت کے جزبے سے سرشار بیرون ممالک کی پیش کردہ ملازمتوں کو ٹھکرایا اور حب الوطنی کا جزبہ انہیں واپس کھینچ لایا۔

جون ٢٠١٢، یونیورسٹی آف سرگودھا کے ڈیپارٹمنٹ، انفارمیشن مینجمنٹ (روایتی لاٸبریری اینڈ انفامیشن ساٸنس) کے لٸے اعزاز کی بات ہے کہ آپ یہاں بطور معلم تشریف لاٸے۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور صلاحیتوں کو بروٸے کار لاتے ہوٸے طلباء کے تعلیمی مساٸل، ان کے حل کیلٸے راہیں ہموار کی۔ اس کے ساتھ طلباء میں محنت، لگن اور آگے بڑھنے کا جزبہ بیدار کرنے کی کوششیں کیں۔ آپ طلباء کو ہمیشہ نصیحت کرتے کہ۔

خواہشوں سے نہیں گرتے پھل جھولی میں

وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہو گا

کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے

اپنے حصہ کا دیا خود ہی جلانا ہو گا

لاٸبریری ساٸنس میں آپ کی بے شمار خدمات موجود ہیں آپ نے U.O.S میں اسسٹنٹ پروفیسر اور چیٸرمین آف ڈیپارٹمنٹ فراٸض سر انجام دیٸے۔ ١٠٠ کے قریب ریسرچ پیپرز اور ایک کتاب جس کا عنون  A review of Library Classification Schemes on Islam: A Pakistani  Perspective ہے۔ آپ نیشنل اور انٹرنیشنل جرنلز کے ایڈیٹوریل ممبر بھی رہے۔ اس کے ساتھ پاکستان لاٸبریری ایسوسی ایشن جرنل کے چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی فراٸض سرانجام دیٸے۔

یو۔ایم۔ٹی لاہور، یونیورسٹی آف سرگودھا اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلامہ آباد جیسے اداروں میں بطور لاٸبریرین،سینٸر لاٸبریرین اور چیف لاٸبریرین کے طور پر فراٸض سرانجام دیٸے۔ اس کے علاوہ مختلف یونیورسیٹیز کے بورڈ آف ممبر رہیں۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں ایڈواٸزر اور سبجکٹ ایکسپرٹ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔

عملی زندگی میں آپ طلباء کیلٸے مشعل راہ کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ نرم مزاجی، شگفتگی اور رحم دلی آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ طلباء کو بھی اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے۔ ان کے مساٸل سنتے اور ان کے حل کی کوشش کرتے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، شاگرد ہو یا معلم، اپنا ہو یا پرایا غرض ہر ایک کے ساتھ مساوی اور مشفقانہ سلوک رکھتے۔ مذہبی لگاٶ کے باعث آپ صوم و صلاة کے پابند اور سچے عاشق رسول تھے۔

٧ جولاٸی ٢٠٢١ کا دن تھا کانوں کی سنی بات پر یقین کرنا مشکل ہورہا تھا۔ چونکہ اٹل حقیقت ہے اس حقیقت کا احساس تب ہوتا ہے جب اپنے پیارے اس حقیقت کا سامنا کرتے ہیں ہمارے روحانی باپ، ہمارے محسن ڈاکٹر حافظ ہارون ادریس اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ اس غمگین خبر پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ آپ کا انسانیت سے پیار، شفقت، نیک نیتی اور خلوص لوگوں کے دلوں و دماغ پر جو نقش چھوڑ گیا یہ سب لوگوں کے دلوں میں آپ کے تاحیات ہونے کا ثبوت ہے۔ اہم زندگی میں آپ کے اہم ہونے کی نشانی ہے، آپ کے وجود کی اہم زندگی میں ہمیشہ کمی رہے گی۔

حقیقت حال یہی ہے کہ اچھے لوگوں کو خدا جلد ہی پاس بلوا لیتے ہیں کیونکہ اللہ کو اپنے پیارے بندوں سے جلد ملنے کا اشتیاق ہوتا ہے۔

ہمارے عظیم استاد محترم تو اپنے حقیقی مالک سے جا ملے اللہ ہمیں بھی استاد محترم جیسا اخلاق اور سیرت عطا کرے۔ دعا ہے اللہ تعالی استاد محترم کا ابدی زندگی میں بھی اقبال اور درجات بلند فرماٸے۔(آمین)

Related Articles

Back to top button