پاکستانتازہ ترینسیاسیات

پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت، گورنر پنجاب کی طرف سے جواب جمع۔

لاہور :پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت، گورنر پنجاب کی طرف سے جواب جمع، جواب میں کہا گیا کہ اگر گورنر نے چیف منسٹر کی نام نہاد ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل نہیں کی تو الیکشن کی تاریخ دینا گورنر کی زمہ داری نہیں۔گورنر نے درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کر دی۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ہم نے وہ حکم جاری کرنا ہے جس پر عمل درآمد بھی ہوسکے۔ اس کیس میں وقت ہی سب سے بڑی چیز ہے۔ جسٹس جواد حسن نے مزید کہا کہ آئین آپ کے ساتھ ہے۔ پنجاب اسمبلی کو گورنر نے تحلیل نہیں کیا۔ اب معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی معاملہ زیر التوا ہے۔ ہم نے ایسا حکم نہیں کرنا جس پر عملدرآمد ناں ہوسکے۔ ‏ہم نے وہ بات کرنی ہے جو آئین کہتا ہے، میں نے آئین سے باہر نہیں جانا۔

جسٹس جواد حسن نے کہا ہمیں صرف یہ بتا دیں کہ الیکشن کمیشن کیا کردار آدا کر سکتا ہے۔  جس کے جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ مجھے تیاری کا موقعہ دیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کیس کی تیاری کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا مجھے کل ہی یہ کیس دیا گیا ہے مجھے کیس کہ تیاری کے لیے کچھ وقت دے دیا جائے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے مزید کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینا گورنر کا اختیار ہے۔ الیکشن کمیشن نے گورنر کو 9 اور 10 اپریل کی تاریخ مقرر کرنے کی تجویز دی۔ الیکشن کمیشن نے لکھے خط میں واضع کیا کہ انتخابات 90 دن میں ہونا آئینی تقاضا ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

 

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button