مضامین

پاکستان میں شادی شدہ، غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ خواتین کے اعداد و شمار 2026

پاکستان میں شادی شدہ، غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ خواتین کے اعداد و شمار، عمر کے لحاظ سے مکمل تفصیل

پاکستان میں خواتین کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں 2026کے لیے کوئی نیا قومی مردم شماری ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ اکتوبر 2026 تک پاکستان بیورو آف شماریات کے پاس ازدواجی حیثیت کے تازہ ترین مکمل سرکاری اعداد و شمار ساتویں مردم و خانہ شماری 2023 کے ہیں۔ اس لیے 2026 میں پاکستان میں شادی شدہ، غیر شادی شدہ، بیوہ، طلاق یافتہ اور علیحدہ رہنے والی خواتین کے بارے میں درست اعداد بتانے کے لیے 2023 کی مردم شماری کو تازہ ترین سرکاری بنیاد سمجھنا ضروری ہے۔

مردم شماری 2023 کے مطابق پاکستان میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کی تعداد 6 کروڑ 93 لاکھ 64 ہزار 224 تھی۔ ان میں تقریباً 25.09 فیصد نے کبھی شادی نہیں کی، 68.51 فیصد شادی شدہ تھیں، 5.76 فیصد بیوہ، 0.48 فیصد طلاق یافتہ اور 0.16 فیصد علیحدہ رہنے والی تھیں۔ یہ تناسب پاکستان بیورو آف شماریات کے تفصیلی جدول میں دی گئی تعداد سے حساب کیا گیا ہے۔

2026 میں پاکستان کی خواتین کے شادی سے متعلق اعداد و شمار کیوں 2023 کے ہیں؟

مردم شماری ہر سال نہیں ہوتی۔ 2026 میں پاکستان بیورو آف شماریات کی موجودہ آبادی اور مردم شماری معلومات اب بھی 2023 کی ساتویں مردم و خانہ شماری پر مبنی ہیں۔ ادارے کی ویب سائٹ پر بھی آبادی کے لیے 2023 کی مردم شماری کو تازہ ترین مردم شماری کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

اس لیے اگر کسی ویب سائٹ پر 2026 کے نام سے خواتین کی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ حیثیت کے نئے قومی فیصد دیے جائیں تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ اعداد کس سرکاری سروے یا مردم شماری سے لیے گئے ہیں۔ محض 2023 کے اعداد کو 2026 کی آبادی پر لاگو کرکے نیا فیصد بنانا سرکاری 2026 کا شماریاتی ڈیٹا نہیں ہوگا۔

پاکستان میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کی ازدواجی حیثیت

مردم شماری 2023 کے قومی جدول کے مطابق 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں:

  • کبھی شادی نہ کرنے والی خواتین: 1 کروڑ 74 لاکھ 5 ہزار 10، یعنی تقریباً 25.09 فیصد
  • شادی شدہ خواتین: 4 کروڑ 75 لاکھ 20 ہزار 610، یعنی تقریباً 68.51 فیصد
  • بیوہ خواتین: 39 لاکھ 93 ہزار 737، یعنی تقریباً 5.76 فیصد
  • طلاق یافتہ خواتین: 3 لاکھ 31 ہزار 683، یعنی تقریباً 0.48 فیصد
  • علیحدہ رہنے والی خواتین: 1 لاکھ 13 ہزار 184، یعنی تقریباً 0.16 فیصد

یہ اعداد 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کے ہیں، اس لیے انہیں پاکستان کی تمام عمر کی لڑکیوں اور خواتین کا تناسب نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ "کبھی شادی نہ کرنے والی” اور "غیر شادی شدہ” کے الفاظ ہمیشہ ایک ہی مفہوم نہیں رکھتے۔ مردم شماری میں "Never Married” سے مراد وہ شخص ہے جس کی کبھی شادی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس طلاق یافتہ یا بیوہ شخص پہلے شادی شدہ ہو چکا ہوتا ہے۔

عمر کے لحاظ سے پاکستان میں خواتین کی ازدواجی حیثیت

2023 کی مردم شماری میں 15 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کا ڈیٹا مختلف عمر کے گروہوں میں بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ شادی شدہ خواتین کا تناسب کیسے تبدیل ہوتا ہے۔

15 سے 19 سال کی لڑکیاں

اس عمر کے گروپ میں خواتین کی تعداد تقریباً 1 کروڑ 15 لاکھ 70 ہزار تھی۔

ان میں:

  • تقریباً 98 لاکھ 31 ہزار نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • تقریباً 17 لاکھ 26 ہزار شادی شدہ تھیں۔
  • تقریباً 3,563 بیوہ تھیں۔
  • تقریباً 6,407 طلاق یافتہ تھیں۔
  • تقریباً 3,482 خواتین علیحدہ رہ رہی تھیں۔

یعنی اس عمر میں کبھی شادی نہ کرنے والی لڑکیاں واضح اکثریت میں تھیں۔

20 سے 24 سال

اس عمر کے گروپ میں خواتین کی تعداد تقریباً 1 کروڑ 14 ہزار تھی۔

ان میں:

  • تقریباً 44 لاکھ 87 ہزار نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • تقریباً 56 لاکھ 2 ہزار شادی شدہ تھیں۔
  • تقریباً 16,211 بیوہ تھیں۔
  • تقریباً 27,834 طلاق یافتہ تھیں۔
  • تقریباً 9,124 علیحدہ رہ رہی تھیں۔

اس عمر میں شادی شدہ خواتین کی تعداد 15 سے 19 سال کے گروپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔

25 سے 29 سال

25 سے 29 سال کی خواتین کی تعداد تقریباً 90 لاکھ 17 ہزار تھی۔

ان میں:

  • 16 لاکھ 79 ہزار 755 نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • 72 لاکھ 44 ہزار 63 شادی شدہ تھیں۔
  • 36 ہزار 142 بیوہ تھیں۔
  • 44 ہزار 407 طلاق یافتہ تھیں۔
  • 12 ہزار 595 علیحدہ رہ رہی تھیں۔

اس عمر میں کبھی شادی نہ کرنے والی خواتین کا تناسب 18.63 فیصد بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان خواتین کی شادی لازماً "دیر سے” ہو رہی ہے، کیونکہ مردم شماری صرف موجودہ ازدواجی حیثیت ریکارڈ کرتی ہے، شادی نہ کرنے کی وجہ نہیں۔

30 سے 34 سال

30 سے 34 سال کی خواتین کی تعداد تقریباً 80 لاکھ 26 ہزار تھی۔

ان میں:

  • تقریباً 6 لاکھ 42 ہزار نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • تقریباً 72 لاکھ 45 ہزار شادی شدہ تھیں۔
  • تقریباً 71,453 بیوہ تھیں۔
  • تقریباً 52,386 طلاق یافتہ تھیں۔
  • تقریباً 14,599 علیحدہ رہ رہی تھیں۔

اس عمر تک شادی شدہ خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

35 سے 39 سال

35 سے 39 سال کی خواتین کی تعداد تقریباً 70 لاکھ 48 ہزار تھی۔

ان میں:

  • تقریباً 2 لاکھ 88 ہزار نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • تقریباً 65 لاکھ 67 ہزار شادی شدہ تھیں۔
  • تقریباً 1 لاکھ 26 ہزار بیوہ تھیں۔
  • تقریباً 51,647 طلاق یافتہ تھیں۔
  • تقریباً 15,138 علیحدہ رہ رہی تھیں۔

قومی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق 35 سے 39 سال کی خواتین میں شادی شدہ خواتین کا تناسب تقریباً 93.17 فیصد تھا۔

40 سے 44 سال

40 سے 44 سال کی خواتین کی تعداد تقریباً 60 لاکھ 63 ہزار تھی۔

ان میں:

  • تقریباً 1 لاکھ 67 ہزار نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • تقریباً 56 لاکھ 10 ہزار شادی شدہ تھیں۔
  • تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار بیوہ تھیں۔
  • تقریباً 45,940 طلاق یافتہ تھیں۔
  • تقریباً 14,844 علیحدہ رہ رہی تھیں۔

اس عمر میں بیوہ خواتین کا تناسب کم عمر گروہوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

45 سے 49 سال

45 سے 49 سال کی خواتین کی تعداد تقریباً 46 لاکھ 25 ہزار تھی۔

ان میں:

  • تقریباً 1 لاکھ 3 ہزار نے کبھی شادی نہیں کی۔
  • تقریباً 41 لاکھ 72 ہزار شادی شدہ تھیں۔
  • تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار بیوہ تھیں۔
  • تقریباً 12,448 طلاق یافتہ تھیں۔
  • تقریباً 1,529 علیحدہ رہ رہی تھیں۔

قومی مردم شماری کے مطابق 45 سے 49 سال کی خواتین میں 90.20 فیصد شادی شدہ، 5.58 فیصد بیوہ، 0.73 فیصد طلاق یافتہ اور 2.22 فیصد ایسی تھیں جنہوں نے کبھی شادی نہیں کی تھی۔

15 سے 49 سال کی خواتین میں مجموعی صورتحال

پاکستان بیورو آف شماریات کی قومی رپورٹ میں 15 سے 49 سال کی خواتین کے لیے الگ اعداد بھی دیے گئے ہیں۔ اس عمر کے گروپ میں:

  • 30.44 فیصد خواتین نے کبھی شادی نہیں کی تھی۔
  • 67.56 فیصد شادی شدہ تھیں۔
  • 1.39 فیصد بیوہ تھیں۔
  • 0.46 فیصد طلاق یافتہ تھیں۔
  • 0.15 فیصد علیحدہ رہ رہی تھیں۔

عمر کے ساتھ یہ تناسب تیزی سے تبدیل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 15 سے 19 سال کی خواتین میں 84.97 فیصد نے کبھی شادی نہیں کی تھی، جبکہ 35 سے 39 سال کی خواتین میں یہ شرح صرف 4.08 فیصد رہ گئی تھی۔ اسی طرح 35 سے 39 سال میں شادی شدہ خواتین کا تناسب 93.17 فیصد تھا۔

15 سے 49 سال کی خواتین میں عمر کے ساتھ تبدیلی

قومی مردم شماری کے اعداد کے مطابق:

  • 15 سے 19 سال: 84.97 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 14.92 فیصد شادی شدہ۔
  • 20 سے 24 سال: 44.24 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 55.23 فیصد شادی شدہ۔
  • 25 سے 29 سال: 18.63 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 80.34 فیصد شادی شدہ۔
  • 30 سے 34 سال: 8.00 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 90.27 فیصد شادی شدہ۔
  • 35 سے 39 سال: 4.08 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 93.17 فیصد شادی شدہ۔
  • 40 سے 44 سال: 2.75 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 92.53 فیصد شادی شدہ۔
  • 45 سے 49 سال: 2.22 فیصد کبھی شادی نہیں کی، 90.20 فیصد شادی شدہ۔

اسی ڈیٹا میں بیوہ خواتین کا تناسب 45 سے 49 سال کی عمر میں 5.58 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جو کم عمر گروہوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

پاکستان میں طلاق یافتہ خواتین کا سرکاری تناسب کتنا ہے؟

2023 کی مردم شماری کے مطابق 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں تقریباً 0.48 فیصد طلاق یافتہ تھیں۔ قومی جدول میں ایسی خواتین کی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 683 درج ہے۔

یہ تعداد عدالتوں میں دائر کیے گئے طلاق یا خلع کے مقدمات کے برابر نہیں ہے۔ کسی سال میں دائر ہونے والے مقدمات اور مردم شماری کے وقت طلاق یافتہ افراد کی تعداد دو مختلف شماریاتی چیزیں ہیں۔ اس لیے عدالتی مقدمات کے اعداد کو براہ راست طلاق یافتہ خواتین کی قومی شرح قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان میں بیوہ خواتین کا تناسب

15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں تقریباً 5.76 فیصد بیوہ تھیں۔ ان کی تعداد تقریباً 39 لاکھ 94 ہزار تھی۔

عمر بڑھنے کے ساتھ بیوہ خواتین کا تناسب بھی بڑھتا ہے۔ 15 سے 19 سال کی خواتین میں بیوگی کا تناسب بہت کم تھا، جبکہ 45 سے 49 سال کے گروپ میں یہ 5.58 فیصد تھا۔

اس فرق کی تشریح کرتے وقت عمر کی ساخت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ بڑی عمر کے گروہوں میں بیوہ افراد کی تعداد عموماً زیادہ ہوتی ہے۔

"کنواری لڑکیوں” کے لیے مردم شماری میں کون سا لفظ استعمال ہوا ہے؟

عام بول چال میں "کنواری” یا "غیر شادی شدہ” کا لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن سرکاری اعداد و شمار میں زیادہ درست اصطلاح "Never Married” یعنی کبھی شادی نہ کرنے والے افراد ہے۔

اس اصطلاح کا مطلب ایسی خاتون ہے جس کی زندگی میں پہلے کبھی شادی نہیں ہوئی۔ اس میں طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین شامل نہیں ہوتیں۔ مردم شماری 2023 نے ازدواجی حیثیت کے لیے Never Married، Married، Widowed، Divorced اور Separation کی الگ کیٹیگریاں استعمال کی ہیں۔

پاکستان میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین کے اعداد کو کیسے سمجھیں؟

مردم شماری کے اعداد یہ بتاتے ہیں کہ کسی مخصوص وقت پر آبادی کا کتنا حصہ کس ازدواجی حیثیت میں تھا۔ یہ اعداد کسی خاتون کے شادی کرنے یا نہ کرنے کی وجہ نہیں بتاتے۔

مثلاً "کبھی شادی نہ کرنے والی” خواتین میں تعلیم، معاشی حالات، ذاتی فیصلہ، خاندانی حالات یا دیگر کئی عوامل ہو سکتے ہیں، لیکن مردم شماری ان وجوہات کی درجہ بندی نہیں کرتی۔ اسی طرح طلاق یافتہ خواتین کی شرح صرف ازدواجی حیثیت بتاتی ہے، طلاق کی وجہ نہیں۔

اس لیے ان اعداد سے سماجی وجوہات کے بارے میں براہ راست نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے انہیں آبادیاتی اعداد و شمار کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔

خلاصہ

اکتوبر 2026 تک پاکستان میں خواتین کی ازدواجی حیثیت کے لیے تازہ ترین مکمل سرکاری بنیاد 2023 کی ساتویں مردم و خانہ شماری ہے۔ 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں تقریباً 25.09 فیصد نے کبھی شادی نہیں کی، 68.51 فیصد شادی شدہ، 5.76 فیصد بیوہ، 0.48 فیصد طلاق یافتہ اور 0.16 فیصد علیحدہ رہنے والی تھیں۔

عمر کے لحاظ سے سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ 15 سے 19 سال کی خواتین میں کبھی شادی نہ کرنے والی خواتین کی شرح بہت زیادہ ہے، جبکہ 25 سال کے بعد شادی شدہ خواتین کا تناسب تیزی سے بڑھتا ہے۔ 35 سے 39 سال میں شادی شدہ خواتین کا تناسب تقریباً 93.17 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button