
صدر ڈاکٹر عارف علوی نے تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ اس مشکل وقت میں سیاست کو روک کر سیلاب زدگان کی مدد پر توجہ دیں اورتمام اسٹیک ہولڈرز عوام، کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی تنظیموں کو متحرک کرنے کے لیے ملک گیر مہم شروع کریں۔ ایوان صدر میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ آنے والی آفت سے بہت تباہی ہوئی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔بڑے پیمانے پر گھروں، فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے بڑے ڈیموں کی تعمیر کیلئے ملک گیر مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ایک سوال پر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اگرچہ صدر کی حیثیت سے یہ ان کی آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ موجودہ سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کریں تاہم اگر تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہو ں تو وہ رضاکارانہ طور پر آئندہ انتخابات کی تاریخ، اتفاق رائے پر مبنی اقتصادی چارٹر اور اہم تقرریوں کو آگے بڑھانے کے طریقے سمیت اہم قومی امور پر ثالثی کر سکتے ہیں۔ ایک اور سوال پرصدر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عدلیہ اور فوج سمیت تمام اداروں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ ایسے تبصرے عظیم تر قومی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی تبصرہ، بیانیہ یا تجزیہ جس سے اداروں کے اندر یا پاکستان کے اداروں اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کا اندیشہ ہو ہمارے قومی مفاد میں ہرگز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور میڈیا پرسنز پر زور دیا کہ وہ اداروں پر گفتگو یا تبصرہ کرتے وقت آئینی حدود میں رہیں۔خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، عدم جارحیت اور تنازعات کے پرامن حل پر پختہ یقین رکھتا ہے اور دوسرے ممالک سے بھی یہی رویہ اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔



