پاکستانتازہ ترینسیاسیات

گورنر پنجاب سے اہل بہاول پور کی توقعات

محمّد عثمان یعقوب

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی مضبوط بنیادوں میں ریاست بہاول پور کا۔کلیدی کردار رہا ہے۔ اس عظیم الشان قربانی اور کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق نے بہاول پور کو صوبائی حیثیت دی ۔جسکے پہلے وزیر اعلیٰ مخدوم حسن محمود جبکہ اسپیکر چوہدری فرزند علی تھے۔نواب آف بہاول۔پور کے اعزاز و احترام اور ریاست بہاول پور کو پاکستان میں ضم کرنے کی۔وجہ۔سے وفاق کی طرف سے گورنر کا عہدہ صوبہ بہاول پور میں خالی رکھا۔گیا۔ون یونٹ کے قیام اور۔اسکے خاتمے کے بعد بہاول پور کی صوبائی حیثیت بحال نا کی گئی ۔جس کے لیے بہاول پور صوبہ بحالی کی تحریک 1970 سے جاری ہے ۔موجودہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان بھی تحریک بحالی صوبہ بہاول پور کے سرکردہ عمائدین میں شمار ہوتے ہیں ۔ان کی پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستگی اور وفاداری قابل رشک ہے۔اسکے علاوہ ن لیگ کی قیادت کا۔ان پر۔اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ۔وہ۔برسر اقتدار جماعت میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ دو مرتبہ ایم۔این اے اور۔وفاقی وزیر رہتے ہوئے انہوں نے اہلبہاول پور سے اپنے تعلق کو کافی مضبوط بنایا۔ترقیاتی کاموں کے تسلسل اور۔کارکنان کے کاموں کو۔زاتی کام۔سمجھتے ہوئے خدمت کی۔سیاست کا۔سفر جاری رکھا۔انکی بہاولپور میں غیر موجودگی میں بھی انکا کیمپ آفس کارکنان اور عام شہریوں کے لیے ہمیشہ۔فعال رہا ہے۔ یہی وجہ۔ہے کہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اہل۔بہاول پور ان سے بہت زیادہ توقعات کررہے ہیں ۔گو کہ گورنر کا عہدہ وفاق اور صوبے میں رابطہ اور آئینی معاملات کے لیے ہوتا ہے۔لیکن سیاسی و جمہوری نظام حکومت میں ہر حکومتی عہدیدار سے توقعات وابستہ ہوجانا فطری عمل ہے۔گورنر کا حلف اٹھاتے ہی عام شہریوں اور ن لیگ کے کارکنان کا جم۔غفیر گورنر ہاوس لاہور پہنچنا شروع ہوگیا جہاں مبارکبادی اور تقریبات کا۔سلسلہ چل نکلا جبکہ تحریک بحالی صوبہ بہاول پور کے کارکنان نے بہاول پور صوبہ کی بحالی برن یونٹ کے قیام موٹر سے لنک کے لیے دو رویہ سڑک بہاول پور ائیرپورٹ کو انٹرنیشنل ائیرپورٹ اورفیولنگ پوائنٹ بنانے قائد اعظم میڈیکل کالج کو ہیلتھ یونیورسٹی بنانے, دریائے ستلج میں تریموں ہیڈ سے نہر کی تعمیر اور دس ہزار کیوسک پانی کی فی الفور فراہمی ,چولستان کی پسماندگی جیسے مطالبات کرنا شروع کردیے ۔اس وقت جب یہ کالم راقم کی جانب سے لکھا جارہا ہے بہاول پور کے اخبارات اور سوشل میڈیا پر یہ مطالبات بڑی شدت سے دہرائے جارہے ہیں ۔ان مطالبات کے لیے نا صرف تحریک بحالی صوبہ بہاول پور سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے قائدین بلکہ صحافی تاجر علماء کرام اور عام افراد بھی ان مطالبات کے لیے آواز بلند کررہے ہیں ۔مسلم لیگ ن کی قیادت میاں نواز شریف شہباز شریف حمزہ شہباز اور مریم نواز بہاول پور کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی سے بہاول پور صوبہ کے حق میں قرارداد بھی منظور کرائی تھی۔جس کی۔وجہ سےاہل بہاول پور یہ سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کی قیادت اور موجودہ گورنر پنجاب بہاول پور کے مسائل حل کرسکتے ہیں ۔ جن ميں سب سے بڑا مطالبہ بہاول پور صوبے کی بحالی کا ہے زمینی حالات اور مجوزہ آئینی طریقہ کار کی وجہ سے نئے صوبوں کا قیام گو ایک نامکن کام ہے۔لیکن خطے کے لوگوں کی طرف سے جن مطالبات کو بار بار دہرایا جارہا ہے۔ان مطالبات پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو ضرور عملی اقدامات کرنے پڑے گے۔کیونکہ آئندہ انتخابات میں گورنر پنجاب کے سیاسی جانشین کو ان مسائل اور۔مطالبات کے حل کے بعد ہی انتخابات میں کامیابی مل سکے گی۔موجودہ ملکی معاشی صورتحال اور پاکستان مسلم لیگ ن کو۔درپیش چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ہر علاقے کے کچھ مسائل ہیں جنہیں حل کیے بغیر ن لیگ کی اگلے انتخابات میں کامیابی ممکن نہیں ہے۔بطور چانسلر صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے آئینی سربراہ ہونے کی حیثیت سے اہل بہاول پور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی ترقی اور مسائل پر بھی گورنر پنجاب سے کافی امیدیں لگاکر بیٹھے ہیں ۔اس ضمن میں وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی اطہر محبوب نے گورنر پنجاب و چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور, وزیر اعلیٰ پنجاب کو کو یونیورسٹی کی ضروریات اور مستقبل کی منصوبہ بندی بارے بریفنگ بھی دی ہے۔بہاولپور کے نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع اور معیاری تعلیم کی فراہمی بھی انکی زمہ داری میں شامل ہے۔انہوں نے بطور وفاقی وزیر مملکت بہاول پور میں وٹرنری یونیورسٹی ایگریکلچرل یونیورسٹی وویمن یونیورسٹی جیسے سٹیٹ اف دی آرٹ منصوبے شروع کیے ۔قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا قانون بلیغ الرحمان اور مرحوم ڈاکٹر سید وسیم اختر کا زندہ و جاوید کارنامہ ہے۔تاہم اسلامیہ یونیورسٹی کے لیے مستقبل کی ضروریات کے لیے انہیں خاص اقدامات کرنے پڑیں گے۔کافی عرصے بعد سیاسی فہم و فراست رکھنے والے پڑھے لکھے بہاول پوری کو گورنر پنجاب کا عہدہ ملنا ناصرف انکی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔بلکہ عوامی توقعات پر پورا اترنے اور خطے کے مسائل حل کرنے کا نادر موقع بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمان اہل بہاول پور کی توقعات پر کتنا پورا اترتے ہیں ۔

Related Articles

Back to top button