انتخاباتپاکستانتازہ ترین

اگرصوبائی حکومت نے بروقت قانون سازی نہ کی تو کمیشن اَز خود فیصلہ صادر کرے گا۔ اور صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گا۔الیکشن کمیشن 

2 جون ء اسلام آباد

بلدیاتی انتخابات کے مسلسل التوا پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن میں پیر کے روز  سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ اگرصوبائی حکومت نے بروقت قانون سازی نہ کی تو کمیشن اَز خود فیصلہ صادر کرے گا۔ اور صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گا۔

سماعت کے دوران سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کمیشن کو تفصیلی بریفنگ دی ۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاخیر کے باوجود، الیکشن کمیشن کی مسلسل کوششوں سے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں انتخابات بروقت منعقد کیے گئے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی قانونی مدت 31 دسمبر 2021ء کو مکمل ہو ئی، جس کے بعد سے اب تک صوبائی حکومت نے انتخابات کرانے کی بجائے محض بلدیاتی قوانین میں ترامیم کیں تاکہ انتخابات نہ کروانے پڑیں۔سیکرٹری کے مطابق 2019ء سے اب تک پنجاب میں بلدیاتی قوانین میں پانچ مرتبہ ترامیم ہوچکی ہیں، جب کہ چھٹی قانون سازی مجوزہ مسودۂ قانون کی صورت میں زیر غور ہے۔ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کا عمل بھی تین بار مکمل کیا اور چوتھی بار حلقہ بندی کو صوبائی گورنمنٹ کی درخواست پرمعطل کیا گیا۔اس موقع پر اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے زور دیا کہ قانون سازی کا عمل فوری طور پر پایۂ تکمیل کو پہنچنا چاہیے اور ڈرافٹ رولز کا مسودۂ بھی فیڈ بیک کے لیے الیکشن کمیشن کو فوری مہیا کیا جائے۔ تاکہ انتخابات میں مزید رکاوٹ نہ آئے۔ اسپیشل سیکریٹری لاء محمد ارشد نے موقف اپنایا کہ آئینی تقاضے کی روشنی میں فوری قانون سازی ناگزیر ہے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن آئین و قانون کی روشنی میں صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا پابند ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ اگر صوبائی حکومت قانون سازی سے گریزاں رہی تو کمیشن آئندہ سماعت میں باضابطہ حکم نامہ جاری کرے گا۔وزیر بلدیات پنجاب نے دوران سماعت بتایا کہ بلدیاتی قوانین کا مسودۂ قانون اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے زیر غور ہے، اور اس پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ تاہم کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ تین ماہ سے زائد کاعرصہ گزر چکا ہے، جب کہ عام طور پر کسی بھی بل کی منظوری کے لیے دو ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے اصرار کیا کہ کہ سندھ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں، تو آخر پنجاب میں اب تک یہ عمل کیوں معرض التوا ہے۔ کمیشن نے اس معاملے کی مزید سماعت آئندہ مقررہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد فیصلہ کمیشن دے گا، پنجاب حکومت سے وقت نہیں پوچھا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button