پاکستانتازہ ترینخواتینکاروبار

عورتوں کی معاشی خود مختاری کیلئے ساز گار پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔

عورتوں کی معاشی خود مختاری کیلئے ساز گار پالیسیاں تشکیل دی جائیں.

سمیڈا کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقدہ ویبنار سے مقررین کا خطاب

لاہور، 7 مارچ()

سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی جانب سے آج عالمی یوم خواتین کے سلسلے میں ایک ویبنا رمنعقد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے کے لیے سازگار ماحول او ر پالیسی سازی پر زور دیا اور کہا کہ اس ضمن میں خواتین کے باہمی تبادلہ خیالات کیلئے ایک مستقل فورم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ سمیڈا کی طرف سے سمیڈا کی جنرل منیجر پالیسی اینڈ پلاننگ ڈویژن محترمہ نادیہ جہانگیر سیٹھ اور جنرل مینیجر آوٹ ریچ محترمہ صالحہ سعیدنے ویبنار سے خطاب کیا۔ جبکہ سمیڈا کی ڈپٹی جنرل منیجر محترمہ تانیہ بٹر نے ویبنار کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرنے والی خواتین میں منیجنگ ڈائریکٹر پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن محترمہ سائرہ عمر، ایف پی سی سی آئی کی وائس پریزیڈنٹ محترمہ قرۃ العین، ، سابق پارلیمنٹیرین اور صدر ویمن چیمبر کے پی محترمہ رابعہ بصری، صدر اسلام آباد ویمن چیمبر محترمہ ثمینہ فاضل، سابق نائب صدر ایف اپی سی سی آئی محترمہ معصومہ سبطین، ، سٹیٹ بنک کی جوائینٹ ڈائریکٹر محترمہ فائقہ نسیم، سابق پارلیمنٹیرین اور صدرویمن چیمبر سرگودھا محترمہ شمیم آفتاب، جائکا کی سینر آفیسر محترمہ نازیہ سحراے ڈی بی کی کنسلٹنٹ محترمہ زینب سعید۔ آئی ایل او کی سینئر پروگرام مینیجر رابعہ رزاق اور پاکستان پروفیشنل ویمن فورم کی بانی محترمہ گلالئی خان، میں نمایاں تھیں۔

جنرل منیجر پالیسی ایند پلاننگ محترمہ نادیہ جہانگیر سیٹھ نے اپنے افتتاحی خطاب میں خواتین کو کاروبار میں فعال کردار ادا کرنے کے حوالے سے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور بتا یا کہ خواتین کی انٹرپرینیورشپ پالیسی اس عزم کا عملی اظہار ثابت ہو گی۔سمیڈا کی جنرل منیجر آؤٹ ریچ I محترمہ صالحہ سعید نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا۔ خواتین کی معاشی شراکت داری صرف مساوات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قومی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔ سمیڈا میں خواتین انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ سیل کی سربراہ محترمہ تانیہ بٹرنے کاروباری خواتین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی،۔

پنجا ب سمال انڈسٹریز کاروپوریشن کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ سائرہ عمر نے کے مثبت اثرات کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے پیسک کے ڈائریکٹوریٹ میں خواتین ڈائریکٹرز کی تعداد کو بڑحا دیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی قرضہ سکیموں کے فوائد خواتین تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔ محترمہ نازیہ سحر، سینئر پروگرام منیجر جائیکانے خواتین کو گھر سے منتقل ہونے میں مدد کرنے میں رہنمائی کی اہمیت پر زور دیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ محترمہ فائزہ احسان نے دیہی علاقوں میں روزگار کی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے تشکیل دیے گئے تربیتی پروگراموں کی تفصیلات بیان کیں۔ سٹیٹ بنک کی جوائنٹ ڈائریکٹر محترمہ فائقہ نسیم نے بینکنگ کےشعبہ میں خواتین کیلئےمساوی سہولتوں پر گفتگو کی اور بتا یا کہ سٹیٹ بنک نے خواتین کی ملکیت والے 12.2 ملین نئے بینک اکاؤنٹس کھولنے میں مدد کی ہے۔ پاکستان کی معیشت میں خواتین کے وسیع تر کردار پر بات کرتے ہوئے،اسلام آباد ویمن چیمبر کی صدر محترمہ ثمینہ فاضل، نے کہا کہ خواتین کیلئے ایک جامع کاروباری ماحول کو فروغ دینے کیلئے نجی اور سرکاری سطح پر مشترکہ کوششیں کی جانی چاہییں۔ ایف پی سی سی آئی کی نائب صدر محترمہ قرۃ العین ،محترمہ صدف عابد، محترمہ۔ گلالئی خان اور محترمہ رابعہ رزاق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں آنے کی خواہشمند خواتیں کی رہنمائی کے لیے مالیاتی رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے علاوہ انہیں ڈیجیٹل خواندگی سمیت دیگر جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے منظم کوششیں کی جانی چاہییں۔ سب خواتین اس امر پر متفق تھیں کہ بامعنی پیش رفت کے لیے نہ صرف سازگار پالیسیوں کی ضرورت ہے بلکہ خواتین کو قومی معاشی دھارے میں فعال کردار انجام دینے کیلئے سمیڈا جیسے اداروں کی ہینڈ ہولڈنگ کی بھی ضرورت ہے۔ مقررین نے اس ضمن میں سمیڈا کی خدمات کو سراہا اور ا پیل کی کہ سمیڈا اس مقصد کیلئے خواتین کے ساتھ مشاورتی مباحثوں کے سلسلے کو باقاعدہ بنیادوں پر جاری رکھے۔

Related Articles

Back to top button