والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی بادشاہی مسجد کے تحفظ و بحالی منصوبے کو مکمل کرنے جا رہی ہے، جو کہ ایک اہم تاریخی یادگار ہے۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی بادشاہی مسجد کے تحفظ و بحالی منصوبے کو مکمل کرنے جا رہی ہے، جو کہ ایک اہم تاریخی یادگار ہے۔

بادشاہی مسجد اورنگزیب عالمگیر نے 1671-1672 میں تعمیر کروائی تھی۔ مسجد کی عمارت غیر مناسب مواد کے استعمال اور انتظامات کی کمی کی وجہ سے اپنی شاندار حالت کھو رہی تھی۔ بادشاہی مسجد کے منصوبے کو 2022 میں حکومت پنجاب نے محکمہ اوقاف کے ذریعے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے سپرد کیا۔ منصوبے کی منظور شدہ لاگت 350.57 ملین روپے ہے۔ اس اتھارٹی نے تحفظ کی تجاویز کے فیصلوں اور عمل درآمد کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی میں تاریخ دان، ماہرین تعمیرات، ماہرین تحفظ، انجینئرز، اور محکمہ اوقاف اور محکمہ آرکیالوجی کے نمائندے شامل ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں، دستاویزی کام اور ساختی جائزہ لیا گیا۔ اس کمیٹی کی منظوری کے بعد، بادشاہی مسجد پر عملی کام شروع کیے گئے۔ مسجد کے چیمبرز کے تحفظ کا کام جاری ہے، اور اب تک 50% کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ چھت پر برقی تاروں کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ منصوبے کے ایک حصے کے طور پر مرکزی داخلی دروازے کے تحفظ کا کام بھی جاری ہے۔ گنبد، میناروں اور مسجد کی عمارت کو روشن کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے دوران بیت الخلا کا حصہ، جو کہ خستہ حالت میں تھا، اس کی نئے سرے سے تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے اس قیمتی ورثے کی تاریخی بحالی اور حفاظت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ مسجد کی عمارت کا تحفظ بھی 50% مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، مسجد کے اندر پتھر خستہ حالت میں ہیں، جن پر کام جاری ہے۔ چھت پر کام 75% مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل جون 2025 میں متوقع ہے۔
کامران لاشاری، ڈائریکٹر جنرل، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی، نے کہا، "بادشاہی مسجد کا تحفظ ہمارے ادارے کی سب سے اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ یہ تاریخی مقام ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں سیاحوں، محققین، ماہرین تعلیم اور ماہرین تعمیرات کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہم نے اس مسجد کو اس کی اصلی اور مستند شکل میں بحال کرنے کے لیے قابل تعریف کوششیں کی ہیں۔ ہم حکومت پنجاب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے ادارے پر اعتماد کیا۔ بادشاہی مسجد کے تحفظ کا منصوبہ صرف ساختی بحالی تک محدود نہیں ہے بلکہ عوام کو اس تاریخی مقام کی اہمیت دکھانے کے لیے ہم نے عوامی سہولیات پر بھی کام کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح آسانی اور آرام دہ دورہ کر سکیں۔”
مبشر حسن، ڈپٹی ڈائریکٹر کنزرویشن اینڈ پلاننگ، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "بادشاہی مسجد سرخ پتھر، اسٹوکو اور فریسکو کے استعمال کی وجہ سے فن تعمیر کی اعلیٰ مثال ہے، جو مغلیہ سلطنت کی تاریخی اور فنی عظمت کو پیش کرتی ہے۔ ہم نے اس کو مستند رکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزید یہ کہ ہم نے مسجد کو روشنیوں سے سجایا ہے تاکہ رات کے وقت ایک خوبصورت منظر پیش کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی معیار کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح، ہم نے سیاحوں کی رہنمائی کے لیے گائیڈز کا انتظام کیا ہے تاکہ اس تاریخی مقام کی دریافت عوام کے لیے آسان، خوشگوار اور قابل رسائی ہو سکے۔”



