
اسلام آباد: وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ ملک کے کسی حصے میں گندم کی قلت نہیں ہے، پاکستان سالانہ 2 ارب ڈالر مالیت کی گندم درآمد کر رہا ہے، ماضی میں پاکستان گندم برآمد کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان روس سے 2.6 ملین ٹن گندم درآمد کر رہا ہے، اب تک روس سے 1.3 ملین ٹن گندم درآمد کی جا چکی ہے، رواں سال جائزہ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد حکومت نے 2.6 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، گذشتہ سال حکومت نے 1.8 ملین ٹن گندم سٹرٹیجک ذخائر میں رکھی تھی جبکہ رواں سال 1.5 ملین ٹن گندم سٹرٹیجک ذخائر میں رکھی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے کسی حصے میں گندم یا آٹے کی قلت نہیں ہے، ہمارے پاس وافر مقدار میں گندم موجود ہے اور ہم نے صوبوں سے بھی کہا ہے کہ انہیں جتنی بھی گندم درکار ہو گی وہ فراہم کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب سمیت صوبے گندم ریلیز نہیں کر رہے جبکہ صوبوں کو ضرورت کے مطابق گندم دی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں گندم کی قلت اور قیمتوں پر واویلا غیر ضروری ہے، حکومت ہر قسم کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، 18ویں ترمیم کے بعد گندم سمیت اشیاء ضروریہ صوبائی امور ہے، خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں کو کوٹہ کے مطابق گندم فراہم کی جا رہی ہے اور ملک کے کسی حصے میں گندم کی قلت نہیں ہے، جب صوبائی حکومتیں گندم جاری کرتی ہیں تو آٹے کی قیمت خود بخود کم ہوتی ہے۔



