
لاہور: پاکستان مسلم لیگ نواز نے بدھ کی شب پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کی کارروائی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسے آئین کے خلاف اور غیر قانونی قرار دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد پی اے احاطے کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا حکم غیر آئینی ہے۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا آج آرٹیکل 130(7) کے تحت اعتماد کا ووٹ کیسے کروایا؟ پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے پہلے کہا کہ آج کے اجلاس میں اعتماد کا ووٹ نہیں لیا جائے گا۔ تاہم آدھی رات کو ایجنڈا تبدیل کر دیا گیا، اور دھوکہ دہی سے اعتماد کا ووٹ شروع کر دیا گیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اعتماد کے ووٹ کی کارروائی پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمان کے حکم کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی جس کے تحت وزیراعلیٰ الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑا۔ وزیر داخلہ نے کارروائی کے وقت اور قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر کا حکم معطل اور زیر سماعت ہے تو وہ اعتماد کا ووٹ کیسے شروع کر سکتے ہیں۔



