
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس 10 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ترامیم کے خلاف دائر درخواست کی دوبارہ سماعت کرے گا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے استدلال کیا کہ ترامیم سے کسی بھی سرکاری افسر کے ذریعے کیے جانے والے وائٹ کالر جرم کو عملی طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ رجسٹرار آفس نے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔ کیس میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان کیس میں اپنے دلائل کا آغاز کریں گے۔ گزشتہ اپریل میں اقتدار میں آنے کے بعد پی ڈی ایم حکومت نے قومی احتساب (دوسری ترمیم) ایکٹ 2022 کی منظوری دی تھی جسے پی ٹی آئی نے اینٹی گرافٹ واچ ڈاگ کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔



