
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف درج مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ہٹانے کا حکم دیا ہے جو کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک ریلی کے دوران ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف ریمارکس پر تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس سمن رفعت امتیاز پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کو کالعدم قرار دینے کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کیس کی دیگر دفعات پر کارروائی متعلقہ فورم پر جاری رہے گی۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے 20 اگست کو دارالحکومت میں پارٹی پاور شو کے دوران متنازعہ ریمارکس دیئے تھے اور بعد ازاں ان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ایک اور مقدمہ درج کیا گیا تاہم بعد ازاں ایف آئی آر میں نئی دفعات شامل کی گئیں جس کے خلاف پی ٹی آئی سربراہ نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔



