
سیلاب سے فصلوں کی تباہی کے باعث کراچی میں سبزیوں کی قلت نے قیمتوں کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
شہر کی مارکیٹوں میں ٹماٹر کی قیمت 480 روپے کلو اور پیاز کی قیمت 200 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔
اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں پیاز اور ٹماٹر بالترتیب 90 روپے اور 110 روپے فی کلو دستیاب تھے۔
جولائی کے بعد سے بلوچستان اور سندھ سے شہر کی منڈیوں میں سبزیوں کی سپلائی بہت کم تھی جس کی بنیادی وجہ شدید بارشوں سے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات ہیں۔
سندھ اور بلوچستان میں سیلاب نے کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔
حال ہی میں دونوں صوبوں میں تباہ کن سیلاب نے سپلائی کی صورتحال کو مزید نقصان پہنچایا ہے اور صارفین پر قیمتوں کا مزید دباؤ ڈالا ہے۔
خوردہ فروش، جنہوں نے کچھ دن پہلے پرانے نرخوں پر سٹاک اٹھایا تھا، اب اس صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
آسمان سے چھوتی مہنگائی نے ان صارفین کو بھی متاثر کیا ہے جو اگلے ماہ سبزیوں بالخصوص پیاز اور ٹماٹر کی شدید قلت کے خوف سے قیمتوں میں مزید اضافے سے پریشان ہیں۔
مختلف اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے کی وجہ سے اکثر صارفین نے اپنی روزمرہ کی خریداری بھی کم کر دی ہے۔
آلو ہی عام آدمی کی قوت خرید کی دسترس میں ہے، کیونکہ یہ 50 سے 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
گھریلو کچن میں کھانا پکانے سے پہلے ہی باقی تمام سبزیوں کے ریٹ جل چکے ہیں۔
دیگر سبزیوں کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں جن میں شملہ مرچ اور لوکی کی قیمت بالترتیب 320 روپے فی کلو، 200 روپے اور 160 روپے ہے جبکہ بند گوبھی 240 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
کھیرے کی قیمت تقریباً 200 روپے فی کلو ہے۔ ہرا دھنیا اور پودینہ کا ایک گچھا 30 روپے میں دستیاب ہے۔ بھنڈی 320 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
فلاحی انجمن ہول سیل سبزی منڈی سپر ہائی وے منڈی کے صدر حاجی شاہجہان نے کہا کہ بلوچستان سے ٹماٹر اور پیاز کی آمد صرف 10 فیصد تک محدود رہی جبکہ سندھ کی صرف 30 فیصد سبزیاں ہی فصلوں کے نقصانات، سیلابی پانی کھڑے ہونے کی وجہ سے ہول سیل مارکیٹ میں پہنچ رہی ہیں۔ کھیتوں میں اور بلوچستان کے علاقوں سے کراچی جانے والی سڑکیں پانی کے پیشِ نظر آمدورفت کے لیئے بند ہیں۔
ضلع سوراب، یونین کونسل مارہ، بلوچستان سے صرف 10 فیصد پیاز اور ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں کیونکہ بہت سے کاشتکار شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اپنی 90 فیصد کھڑی فصلیں ضائع کر چکے ہیں۔
کاشتکار اپنے مکانات بنانے کے لیئے بھی جدوجہد کر رہے ہیں جو شدید سیلاب اور بارشوں سے بہہ گئے ہیں۔
مکانات کی تعمیر نو میں کوئی مدد حاصل نہیں ہے اور نہ ہی فصلوں کی بحالی کے لیئے کوئی ترغیب حاصل ہے۔ کاشتکار
یوریا اور ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) یوریا بیگ کی زیادہ لاگت، جس کی قیمت 2400 روپے ہے، پچھلے سال 1,780 روپے تھی۔ اس کے بعد مزدوری کی شرحوں اور سامان کی نقل و حمل کے اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا۔
بارشوں اور سیلاب نے سندھ کے بہت سے پیدا کرنے والے علاقوں میں سبزیوں کی 75 فیصد فصلیں تباہ کر دی ہیں اور صرف 25 فیصد باقی رہ گئی ہیں جنہیں کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکار بہت سے علاقوں میں زمین کے خشک ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد ان کے گھروں کی تعمیر نو کی کوششیں جاری ہیں۔
پیاز اور ٹماٹر کی نئی فصل عموماً ستمبر سے اکتوبر میں آتی ہے۔ تاہم، کچھ کاشتکار نئے بیج اگانے کی کوشش کریں گے، لیکن فصلوں میں تاخیر کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کسی بھی سنگین غذائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔



