
موجودہ گنجائش 980میگاواٹ سے کم،یو ایس ایڈ کی معاونت سے منگلا یونٹ نمبر 3 اور نمبر 4 کی مرمت اور اپ گریڈیشن کا کام شروع ،ویلتھ پاک کی رپورٹ
()منگلا بجلی گھر کی پیداواری صلاحیت 1310میگاواٹ کرنے کے 52ارب روپے کے منصوبے پر کام جاری،موجودہ گنجائش 980میگاواٹ سے کم،یو ایس ایڈ کی معاونت سے منگلا یونٹ نمبر 3 اور نمبر 4 کی مرمت اور اپ گریڈیشن کا کام شروع ۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق مزید دو یونٹس کی مرمت سے منگلا پن بجلی گھر کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔منگلا یونٹ نمبر 3 اور نمبر 4 کی مرمت کا کام شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔منگلا ڈیم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دونوں یونٹوں میں ٹیسٹنگ کی گئی تاکہ مرمتی کام شروع کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار نے یونٹس کی حالت اور مجموعی کارکردگی کے بارے میں دریافت کیا۔اس سے قبل یونٹ نمبر 5 اور نمبر 6 کو واٹر اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کامیابی کے ساتھ شروع کیا تھا۔مرمت اورتزئین و آرائش کے بعد دونوں یونٹس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 100 میگاواٹ سے بڑھ کر 135 میگاواٹ ہو جائے گی۔واپڈا 52 ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ریاستہائے متحدہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس ایڈ 150 ملین ڈالر بطور گرانٹ فراہم کر رہا ہے اور فرانسیسی ترقیاتی ادارہ اے ایف ڈی اس مقصد کے لیے 90 ملین یورو بطور قرض فراہم کر رہا ہے۔ باقی رقم واپڈا قرضوں اور اپنے وسائل سے ادا کر رہا ہے۔
منگلا ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن جو آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میرپور میں واقع ہے، 10 یونٹ استعمال کرتے ہوئے 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آلات کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے سٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 980 میگاواٹ سے بھی کم ہو گئی۔فزیبلٹی اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ یونٹس کی اپ گریڈیشن کے ساتھ، جو کہ ڈیزائن میں کوئی بڑی تبدیلی کیے بغیر کی جانی ہے، ڈیم کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجودہ 1,000 میگاواٹ سے بڑھ کر 1,310 میگاواٹ ہو جائے گی۔ویلتھ پاک کے مطابق منگلا ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کے پہلے چار یونٹ، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 100 میگاواٹ ہے، 1967 میں مکمل ہوئے تھے اور ان کی عمر 35سال تھی۔



