پاکستانتازہ ترین

پاکستان کی صنعتی ترقی کی شرح 7فیصد، سرمایہ کاری کی کمی سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی کارکردگی متاثر

خصوصی ا قتصادی زونز امید کی کرن،معاشی سرگرمیاں تیز غربت کا خاتمہ اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،بیرون ملک پاکستانی بھی زونز میں سرمایہ لگا سکیں گے،چینی سرمایہ کاروں کو مراعات، انفراسٹرکچر اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت،ویلتھ پاک کی رپورٹ
پاکستان کی صنعتی ترقی کی شرح 7فیصد، سرمایہ کاری کی کمی سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی کارکردگی متاثر ،خصوصی ا قتصادی زونز امید کی کرن،معاشی سرگرمیاں تیز غربت کا خاتمہ اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،

بیرون ملک پاکستانی بھی زونز میں سرمایہ لگا سکیں گے،چینی سرمایہ کاروں کو مراعات، انفراسٹرکچر اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کا قیام ملک میں صنعت کاری کو بحال کرے گا،خصوصی ا قتصادی زونز نہ صرف ملک میں صنعت کاری کے عمل کو تیز کریں گے بلکہ خوشحال سمندر پار پاکستانیوں کو اپنے وطن واپس آنے اور قوم سازی کے عمل میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کریں گے۔

تازہ ترین اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی صنعتی ترقی کی شرح اس وقت 7.19 فیصد ہے۔ ملک میں صنعتی ترقی میں کمی کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کو قرار دیا جا سکتا ہے سرمایہ کاری کی کمی سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاہم پاکستان مینوفیکچرنگ سیکٹر کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مجموعی ملکی پیداوار اور برآمدات میں اس کی اہمیت کو بحال کرنے کے لیے ایک مثالی تبدیلی کے لیے پرعزم ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں صنعت کاری کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ اقتصادی زونز کا قیام پاکستانی فرموں کے لیے چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنے ،صنعتی کلسٹرز سے منسلک ہونے اور اپنے کاروبار کو بہتر بنانے کے لیے ان کے تعاون پر مبنی کاروباری ماڈل کو اپنانے کا ایک بہترین موقع ہوگا۔

خصوصی اقتصادی زونز سے بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی جس کے نتیجے میں ملک میں بے روزگاری اور غربت کے خاتمے پر قابو پایا جا سکے گا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر محمود نے ویلتھ پاک کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز کئی طریقوں سے پاکستان کی صنعتی ترقی کا محرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زونز تکنیکی ترقی کے علاوہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں گے جوصنعتی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز نے فلسطین کو روزگار کے مواقع کے حوالے سے بہت زیادہ فائدہ پہنچایا ہے۔

اس آزاد تجارتی معاہدے سے فلسطین میں صنعتوں کی ترقی میں مدد ملی ہے۔ ڈاکٹر ظفر نے کہا کہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے علاوہ خصوصی اقتصادی زونز کچھ خوشحال سمندر پار پاکستانیوں کو وطن واپس آنے کا موقع فراہم کریں گے تاکہ وہ قوم سازی کی سرگرمیوں میں حصہ لیںسکیں۔اگر احتیاط سے منصوبہ بندی کی جائے تو خصوصی اقتصادی زونز یقینی طور پر لوگوں کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چینی ممکنہ سرمایہ کار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کی مہارتوں اور تجربے کی وجہ سے ایک بڑے سرمائے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چین کے نجی سرمایہ کار خصوصی اقتصادی پالیسیوں اور لچکدار حکومتی اقدامات کے عادی ہیں، جو ایک ایسے معاشی انتظامی نظام کو یقینی بناتے ہیں جو فرموں کے کاروبار کرنے کے لیے زیادہ پرکشش ہو۔

چینی خصوصی اقتصادی زونز میں مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو راغب کرنے کے لیے مراعات کی پیشکش کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر نے مزید کہا کہ پاکستانی پالیسی سازوں کو چینی سرمایہ کاروں کو مراعات، انفراسٹرکچر اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ چینی سرمایہ کار اندرون ملک اور دیگر مسابقتی ممالک میں ایسی مراعات کے عادی ہیں۔ اس تناظر میں طویل مدتی حکومتی عزم اور ہم آہنگ پالیسیوں کے لیے مستقل مزاجی خصوصی اقتصادی زونز کی کامیابی کے لیے اہم ہو گی۔

Related Articles

Back to top button