
لاہور- تنقید کے ایک تازہ دور میں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بدھ کو اپنی پارٹی کے سینئر رہنما فواد چوہدری کی بغاوت کے مقدمے میں گرفتار ہونے کے بعد ریاستی اداروں پر تنقید کی۔ ایک ٹیلی ویژن پریس کانفرنس میں، پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ قوم انصاف کے لیے سپریم کورٹ اور پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف دیکھ رہی ہے جو کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد دور کی بات ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں اور آزادی ہمارا حق ہے۔ سب لوگ میری طرح آزاد ہو جائے اور کسی سے نہ ڈرے، میں ان کے خلاف آخری گیند تک لڑو گا، میری آخری سانس ان کے لیے ہیں۔ ہمیں کسی کی غلامی قبول نہیں۔ ہمیں بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے جنجت سے نکلنا ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے سری لنکا کی حکومت پر شرط عائد کی کہ وہ اپنی فوج کا خرچ کم کرے، ہمیں بھی ایسا کرنا ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کے میری حکومت کو گرا کر اُن لوگوں کو لایا گیا جو اس ملک سے تیس سال سے لوٹ رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو بلاجواز پکڑنے سے ہم کمزور نہیں ہو گے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مجھے آٹھ دن جیل میں ڈالا، لکین موجودہ حکومت کے فاشزم نے سب ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اج وہ لوگ بھی ملوث تھے جنہوں نے 25 مئی کی رات کارکنوں کو پکڑا۔ عمران خان نے کہا کہ عدلیہ نے اپنی حق ادا نہیں کیا۔ ہمارے پاس عدلیہ کے پاس جانے کے علاوہ کون سا راستہ ہے۔ عدلیہ نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو پھر ہمارے پاس دوسرا راستہ سڑکوں پر آنا ہے جس سے ملک کو مزید نقصان پہنچے گا۔ عمران خان نے تنقید کی کے مجھ پر حملے کی جے آئی ٹی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ پنجاب میں ہماری حکومت ہونے کے باوجود میں اپنی ایف آئی آر نہیں کروا سکا، ہمیں اس سسٹم سے نکلنا ہو گا۔ لوگوں کو انصاف آسانی سے میسر ہونے تک میں لڑتا رہوں گا۔



