
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کے متنازعہ ٹویٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں اعظم سواتی کو اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم چلانے کا مجرم قرار دیا گیا۔ اسپیشل جج سینٹرل نے چھ صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی رہنما نے عوام کو فوجی افسران کے خلاف اکسانے کی بھی کوشش کی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اعظم سواتی کے شیئر کردہ ٹویٹس کو عوام نے کئی بار ری ٹویٹ کیا اور انہیں کم از کم سات سال قید یا زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب پی ٹی آئی رہنما نے جرم دہرایا تو ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی۔



