
ملک میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بعد وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیئے روایتی حریف بھارت سے سبزیاں درآمد کرنے پر غور کرے گا۔
ہم ہندوستان سے سبزیاں درآمد کرنے پر غور کر سکتے ہیں، جبکہ ترکی اور ایران بھی دوسرے آپشن ہو سکتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل
حکومت پاکستان میں کھڑی فصلوں کی تباہی کے پیش نظر عوام کی سہولت کے لیے بھارت سے سبزیاں اور دیگر خوردنی اشیاء درآمد کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ مفتاح اسماعیل
کئی ہفتوں سے جاری بارشوں سے لاکھوں ایکڑ پر مشتمل زرعی زمین زیرآب آگئی ہے۔ بنیادی اشیا کی قیمتیں خاص طور پر پیاز، ٹماٹر اور ڈالوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ دکاندار سیلاب زدہ صوبوں سندھ اور پنجاب سے چیزوں کی فراہمی کی کمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل
اس امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق مشیر وزارت خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا کہ علاقائی انضمام کو عوامی بھلائی کے طور پر سوچا جا سکتا ہے اور جنوبی ایشیا کا خطہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے باہمی تجارت پر آگے بڑھنے کے بارے میں سوچنے کے لیے اچھی اقتصادی بنیادیں ہیں۔ خاقان نجیب
سابق مشیر نے مزید کہا کہ اس وقت جب سیلاب کی وجہ سے فصلوں کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا ہے تو خاص طور پر ٹماٹر، پیاز اور ساگ اور شاید بعد میں گندم کی درآمد پر غور کرنے میں مدد مل سکتی ہے تاکہ ملک میں سپلائی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو باضابطہ طور پر گھٹا دیئے، جس کے بعد اسلام آباد کے نیو دہلی کے ساتھ کوئی تجارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بھارت کے فیصلے کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔



