بین الاقوامیتازہ ترینسیاسیات

سری لنکن باشندے صدارتی محل میں داخل ہو گئے۔ غیر ملکی خبر رساں

صدر گوتابایا راجا پاکسے کے استعفے کے اعلان کے بعد لوگ صدارتی محل میں داخل ہو کر لطف اندوز ہونے لگے۔

سری لنکا کے نوآبادیاتی دور کے صدارتی محل نے 200 سال سے زیادہ عرصے سے ریاستی اقتدار قائم کیا، لیکن اتوار کو یہ اقتدار سری لنکن باشندوں نے عوامی طاقت کے ذریعے ختم کرد دیا۔

ہزاروں مرد، عورتیں اور بچے صدارتی محل میں داخل ہو گئے۔ عوام نے صدارتی محل میں داخل ہو کر بالائی منزل پر صدر گوتابایا راجا پاکسے کی کرسی پر بیٹھنے کے لیئے قطار میں کھڑے باشندے عوامی طاقت حاصل چکے ہیں۔

عوام محل میں داخل ہو کر گورڈن گا رڈن، سنگ مرمر کے فرشوں اور مرکزی ایئر کنڈیشنگ میں وقت گزار کر عوام نے بادشاہوں والی زندگی سے لطف اندوز ہوئے۔

راہب سری سومیدا نے پہلی بار محل کا دورہ کرنے کے لیے 50 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد محل کی زندگی سے لطف اندوز ہوئے اور بتایا، جب رہنما اس طرح کے عیش و آرام میں رہتے ہیں، تو انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ عام لوگ کیسے انتظام کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button