پاکستانتازہ ترین

بلوچستان کے ’پکوانوں کی کہانیاں

بلوچستان کے ’پکوانوںکی کہانیاں
معروف لکھاری نیلو فر قاضی کی کتاب پر ایک تبصرہ
مبصر:ممتاز سلیم لنگاہ

ملک کی معروف مصنفہ نیلوفر آفریدی قاضی کا تعلق پشین، بلوچستان سے ہے اور وہ سابق سفیر جہانگیر قاضی کی صاحبزادی اور پختون گھرانے کی چشمِ چراغ ہیں۔ ان کی دادی جنیفر قاضی (2008-1917) برصغیر کی ایک معروف شخصیت تھیں۔ اور ان کی دادی کی پیدائش آئرلینڈ کی تھی۔ مگر وہ پشین سے تعلق رکھتی تھیں۔ جنیفر قاضی نے خان آف قلات کے وزیر اعظم کے بیٹے سے شادی کی تھی جو 1970 میں پاکستان میں ممبر پارلیمنٹ بھی تھے ۔ نیلوفر نے اپنی ایک کتاب کے باب میں اُن کا ذکر بھی کیا ہے۔

اُن کی کتاب 2021 میں انگلینڈ میں شائع ہوئی۔ نیلوفر نے بلوچستان کے کونے کونے میں جا کر ماہرِ باورچیوں اور بڑی بوڑھیوں سے ہر علاقے کے روایتی قدیم و جدید کھانوں پر تحقیق کر کے اِس کتاب میں انہیں محفوظ کر دیا۔ جیسے مچھلی کا حلوہ۔ نیلوفر نے بلوچستان کے سرداری نظام کے غلبے اور خواتین کی حقوق سے محرومی کا بھی تذکرہ کیا۔ نیلوفر نے زیارت میں قائد اعظم کے قیام کا بھی تفصیلی بیان کیا۔ نیلوفر کا فلم میکنگ کی جدید ٹیکنیک کا بھی تجربہ ہے۔ وہ درجن بھر ممالک میں مقیم رہیں کیونکہ ان کے والد فارن سروس سے وابستہ رہے ہیں ۔ 2005 کے زلزلے کے بعد وہ پاکستان واپس آگئیں۔ 2012 میں انہوں نے اس کتاب کا آغاز کیا تا کہ بلوچستان کو ایک نئے زاویے سے متعارف کروایا۔

ان کا ارادہ تھا کہ وہ پاکستان کے تمام صوبوں و علاقوں کے روایتی کھانوں پر بھی تحقیق کر کے کُتب لکھیں۔ مگر متعلقہ حلقوں نے ان کی حوصلہ افزائی نہ کی۔ نیلوفر کے والد صاحب فارن ایمبیسی میں ہونے کی وجہ سے وہ بلوچستان میں قلیل وقت گزار سکی۔ جب بھی وہ پاکستان آتی تھی تو اُن کے لیئے پرانی یادیں اُن کی زندگی کا ایک اہم جُز تھی جو اُن کے آباؤ اجداد کی یادوں کو تازہ کر رہی تھی۔ تاہم 1990 کی دہائی میں وہ پشاور کے ایک اسکول میں پڑھاتی بھی رہی ہیں۔چھٹیوں کے دوران اُن کو بلوچستان میں چند دن گزارے ہوئے ان کو وہ ماضی کی یاد بتاتے ہوئے کوئٹہ کو ایک ایسے شہر کے طور پر یاد کیا جو پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور دوپہر کی تیز دوپ کی چلچلاتی گرمی میں بھیگ گیا۔ لیکن پُرانے زمانے کے بارے میں سب کچھ مثبت نہیں تھا۔

کیونکہ کوئٹہ کے 1935 کے زلزلے کا باب کافی دلخراش تھا۔ بلوچستان کی بدقسمتی اور ظُلم ایک طویل تاریخ ہے۔ کے بارے میں بتاتی ہے کہ تقسیم کے بعد سے بلوچستان میں اکثر تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ مزید برآں، جب پاکستان 11/9 کے بعد کے دور میں داخل ہوا تو بلوچستان کے حالات کافی خراب ہو گئے۔ 2005 میں ڈاکٹر شازیہ خالد کی عصمت دری نے علاقے میں احتجاج، بغاوت اور سخت سرکاری جبر کو جنم دیا۔ نیلوفر کے مطابق بلوچستان کا سرداری نظام خواتین کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے۔

نیلوفر نے اپنی کتاب Culinary Tales From Balochistan “بلوچستان سے پکوان کی کہانیاں” کے شروع میں ان ترکیبوں کے ذریعے پاکستانی کھانوں کو مزید نزاکت، ساخت اور تنوع کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی کتاب میں کھانا پکانے کے علاوہ سفری تحریر بھی درج ہیں۔ یہاں کے ثقافتی روابط نیلوفر قاضی کو ایک اچھے مقصد کو ابھارنے کے طور پر بیان کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اُنہوں نے بلوچستان میں وسطی اور جنوبی ایشیائی اثرات کے جھنجھٹ سے پردہ اٹھاتی ہیں، افغان کھانوں سے ملتے جلتے کھانے سے لے کر دسترخوان، حفظان صحت سمیت بیٹھنے کے طور طریقوں کو بھی اُجاگر کیا۔ فوڈ میپنگ پاکستان کی طرف پہلا قدم ہے جیسے بلوچستان سے شروع کیا۔

بلوچستان جو کہ ایک جادوئی دنیا کے ثقافتی دل کی ایک کھڑکی ہے جو ابھی تک جدیدیت سے اچھوت نہیں ہے۔ بلوچستان جو ایک تنوع ہے وہ اس کے پگھلنے والے برتن میں نرم زندگی اور اس کے غذائیت بخش کھانوں سے عیاں ہے۔ نیلوفر کے مطابق بلوچستان کے لوگوں كا سیاست کی بجائے کھانے اور رہن سہن پر زیادہ توجہ مرکوز ہے کیونکہ پکوان پر توجہ مرکوز کرنا کسی ثقافت یا ملک کو دریافت کرنے کا ایک دلچسپ طریقہ ہے۔ کسی بھی قوم کی پہچان اُس کی ثقافت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے نیلوفر نے بلوچستان کی پہچان کو وہاں کی شفافیت سے اُجاگر کیا۔ پکوان لوگوں کی ثقافت و وراثت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ نیلوفر کا ایک مقصد روایتی ترکیبوں کے ذریعے اپنے ورثے کے اس قیمتی اثاثے کو اُجاگر کرنا ہے۔

نیلوفر کے مطابق بلوچستان کا سب سے مشہور کھانا لانڈھی جسے خشک گوشت بھی کہا جاتا ہے۔ لانڈھی ایک ایسی ڈش ہے جس میں گوشت کو خشک کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور لمبے عرصے تک استعمال کیا جاتا ہے۔ گوشت کو تازہ رہنے کے لیئے ہڈیوں کو خشک اور منجمد درجہ حرارت سے نیچے رکھا جاتا ہے تا کہ گوشت خراب نہ ہو۔ اس کے علاوہ پیٹھا کا حلوہ جو کے کدو سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کرت ایک خمیر شدہ دودھ کا مائع ہے جیسے کھانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ نیلوفر نے اپنی یادگار کھانے کی ڈش میں مچھلی کا حلوہ کو پسند کیا۔ جس کی ترکیب انہوں نے اپنی کتاب کے گوادر باب میں دی ہے۔ بلوچستان کا زیادہ تر حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے یہاں خُشک میوہ جات کی پیداوار اچھی خاصی ہیں۔ میوہ جات میں کھجور، پستہ، بادام، اخروٹ، خوبانی، کاجو اور دیگر مشہور میوہ جات شامل ہیں۔

صحت کے حوالے سے شعور رکھنے والے دارالحکومت کوئٹہ میں کالی گاجروں پر مشتمل سلاد بھی مقبول ہیں۔ پاکستان کے جنوب مغرب کے ساتھ ساتھ اس کے مشہور شمالی علاقہ جات کے ان دو علاقوں کی غذائی عادات سے صحت کے بے شمار فوائد کے بارے میں ایک دلچسپ مطالعہ نیلوفر کی کتاب میں قلم بند ہے۔ کچھ منفی نقطہ نظر کو بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ کیک پکانے اور برطانوی راج کی دیگر وراثت کو نہیں بھولتی۔ وہ کوئٹہ کے ایک ٹاؤن کی یاد دلاتی ہے، کہ یہاں صدیوں سے تعینات نوآبادیاتی فوج (برٹش) نے مقامی کنفیکشنری کلچر (جس نے برٹش کھانے) کے نقوش چھوڑے۔ چھاؤنی کے علاقے کا کوئٹہ کلب جہاں مغرب زدہ مقامی لوگ انگریزی کھانے کھاتے تھے، لیکن آج کل برٹش کی بجاۓ فرینچ بیکری اس کلچر کو آگے بڑھا رہی ہے۔ برٹش کھانوں نے یہاں کے مقامی کھانوں کو گہری ٹھیس پہنچائی۔

ایک موقع پر وہ لکھتی ہیں کہ سرداری سانچے کو توڑنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ اس کتاب میں سرداری سانچے کے متعلق مسائل کے بارے میں بتانے کے لیے بہت کچھ ہے جو بلوچستان میں خواتین کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ایک عورت کی حیثیت سے انہیں بھی معاشرے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُن کی صنفی اور غیر معمولی حیثیت ایک خاتون مسافر کے طور پر مرد باورچیوں سے بات کرتے ہوئے بعض اوقات سوالات، حیرت یا دشمنی کو جنم دیتی تھی۔ یہاں تک کہ اس ثقافت میں خاندانی علاقوں سے باہر کھانے میں بھی کچھ کا سامنا کرنا پڑتا، لیکن نیلوفر آفریدی نے فضل اور ہمت کے ساتھ اپنے اس سفر کو آگے بڑھایا۔ ساحلی منازل اور زمین سے گھرا ہوا شہری اور دیہاتی ثقافت کی بحث میں بلوچستان تنوع ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ کوئٹہ کے ایک ہزارہ ضلع میں نیلوفر قاضی جذباتی ہو گئی جب انہوں نے محلے میں گھومنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ متجسس بزرگ کی گرمجوشی نے اُنہیں معاشرے کی شختی کی یاد دلائی۔

نیلوفر آفریدی قاضی کے لیئے پرانی یادیں ایک ایسا جزو ہیں جو نہ صرف مصنفہ کی خاندان کے افراد کی ذاتی یادوں کی یاد دلاتی ہے بلکہ اس کے سیاسی عکس بھی۔ مثال کے طور پر زیارت میں قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم وفات کے ساتھ ساتھ خطے کے ابتدائی سالوں میں ایک پرامن فرقہ وارانہ بقائے باہمی کے حوالے سے جو کہ اکیسویں صدی تک فرقہ وارانہ منافرت سے بکھر چکا ہے۔نیلوفر آفریدی قاضی اپنی تحریری صلاحیتوں کے بارے میں غیر معمولی ہیں اور وہ ایک دستاویزی اور فلم سازی کے طور پر پہچان رکھتی ہیں۔ نیلوفر نے بلوچستان کی ثقافت کو جدید دور میں جدید طریقے سے اُجاگر کیا۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں انہوں نے سوشل میڈیا یوٹیوب پر "نیلوفرسکونر” Niloferscorner کے نام سے چینل بھی بنا رکھا ہے۔ جس کا مقصد "پاکستان آن اے پلیٹ” ہیں۔ جس میں وہ بلوچستان کے کلچر کے ساتھ ساتھ راویتی کھانوں کو اُجاگر کر رہی ہیں ۔

وہ بلوچستان کی جغرافیہ کو بیان کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ یہ زمین ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے، جس میں پہاڑ، دریا، صحرا، رنگ سے بھرے ساحل شامل ہیں۔ نیلوفر آفریدی نے اپنے یوٹیوب چینل میں بلوچستان کے پکوانوں کے ساتھ ساتھ مُلک کے دوسرے شہرروں کے کھانوں کے بارے میں بھی بیان کیا ہے۔ جن میں تھر پارکر، میانوالی، خانپور، خانیوال، ملتان، گوجرنوالہ، چکوال، شیخوپورہ، شکرگڑھ، لسبیلہ، سکھر قابلِ ذکر ہیں۔ خیبر پختون خواہ اور دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شمالی علاقوں ہنزہ، کالاش، شوگراں گائوں، اور کاغان کے رسموں رواج اور کھانوں کو بھی اُجاگر کیا۔ نیلوفر آفریدی کا یہ مقصد نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے پکوانوں کے کھانوں کو اُجاگر کرنا ہے جس کے لیئے اُنہوں نے کافی عرصے تک جد وجہد کی۔

Related Articles

Back to top button