
پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، ملک اپنی بجلی کا صرف 1.16 فی صد صاف، سبز اور سستی توانائی کے اس وافر ذریعہ سے پیدا کرتا ہے۔ ویلتھ پاک سے بات کرتے ہوئے، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او رضا عباس شاہ نے کہا کہ انہوں نے سولر سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ”سولر پینلز اور الائیڈ ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ” کے لیے پالیسی بنانے کا کام شروع کیا ہے۔ پالیسی میں متبادل قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے درآمدی پلانٹ کے آلات اور مشینری پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔
دیگر سفارشات میں نئے پلانٹس لگانے کے لیے پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ اور سولر پارک کے ڈویلپرز کو زمین یا انفراسٹرکچر کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکمت عملی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی، روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، درآمدی متبادل کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچائے گی، اور سبزاور سستی بجلی کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ پالیسی مینیجر عاصم نے بتایا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے، سولر پرزوں کی بڑے پیمانے پر لوکلائزیشن کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں قیمتیں کم ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناکارہ تھرمل پلانٹس (خاص طور پر بھاری ایندھن کے تیل) سے بجلی کی پیداوار کو کم کرنے کی کوششوں کو بھی جاری رکھنا چاہیے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق شمسی آلات کی درآمد پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کو ختم کرنے کے حکومتی فیصلے سے ملک میں ان کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ پاکستان تقریباً پورا سال شمسی توانائی حاصل کرتا ہے، جس سے ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنے انتہائی شعاع زدہ علاقوں سے توانائی کے اس قدرتی ذریعہ سے فائدہ اٹھانے کا ایک غیر معمولی موقع فراہم ہوتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، پاکستان کی بجلی کی موجودہ طلب کو سولر فوٹو وولٹک (سولر پی وی) پاور آؤٹ پٹ کے لیے ملک کی صرف معمولی سی اراضی استعمال کر کے پورا کیا جا سکتا ہے۔
پالیسی مینیحر عاصم ایاز نے امید ظاہر کی کہ 2030 تک 30 فیصد شمسی بجلی کا ہدف حاصل کر لیں گے۔ جنوری 2022 میں چین اور پاکستان کے درمیان مارچ 2022 کے آخر تک گوادر میں 3,200 سولر پینل یونٹ لگانے کے معاہدے کی منظوری دی گئی۔ جون 2021 میں، 155 ریلوے اسٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 450 ملین روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے مناسب سیاسی ارادہ اور حکومتی سرمایہ کاری ہو تو شمسی توانائی کی تعمیر ملک کی صلاحیتوں کے مطابق ہے۔



